کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 18 - صفحہ 116
اسے(جبراسٹر )کہتے ہیں طارق بن زیادنے اپنےجنگی بیڑےکوفوج کے سامنے ہی جلادیا تاکہ یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ غیر ملکی زمین پر دو ہی راستے ہیں فتح یا موت۔ آگے کا احوال کتب تاریخ میں موجود ہے۔ اس دن کے آٹھ سو سال بعد عالم اسلام کا چراغ یورپ کے وسط میں اپنی کرنیں پھیلاتا رہا ۔یورپ کی ترقی ،سائنس کافروغ ،کھانے پینےکے آداب سب کچھ مسلم اسپین کے باشعور اور ذہین لوگوں کے مرہون منت ہے،مقصد ِ ذکر صرف اتناہی ہے کہ مسلم بحریہ کا یہ ایک کارنامہ نہیں بلکہ سندھ کے بت پرست لوگوں میں جوتوحید کے چراغ جلتے نظر آئے ہیںاس میں بھی محمد بن قاسم کی آمد روفت کا ذریعہ ٹھٹھہ کا ساحل تھا۔ایران سے مکران کے راستے دونوں کے ذریعے اسلامی بری اور بحری افواج نے سندھ فتح کیا۔علامہ اقبال طارق بن زیاد کے کارناموں کا تذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں۔ ؎خندید و دستِ خویش بہ شمشیر بردوگفت ہر ملک ملک ماست کہ ملکِ خدائے ماست یعنی جب طارق کو اعتراض سننا پڑا کہ تم نے کشتیاں جلاکر خلاف شریعت کام کیا ہے کیونکہ اسباب کوترک کرنا تو غلط کام ہے تو انہوں نے مسکراکر کہا’’ہر ملک ہمارا ملک ہے کیونکہ ہمارے رب ذوالجلال کا ملک ہے اور اللہ کی سرزمین پر توحید کا نعرہ بلند کرنا ہمارا فرض منصبی ہے‘‘۔ اس کے بعدعبدلرحمٰن الداخل نے اسلامی بحریہ کو بہت ترقی دی فرانس اوریورپین اقوام کو صدیوں تک ناکوں چنےچبواتے رہے۔بعد اذان عبدالرحمٰن الناصر نے50 سال کے دور حکومت میں کیا کارنامہ انجام دیا اس کا حال ابن خلدون نے لکھاکہ ’’پچاس سالہ دورحکومت میں الناصر نے اسلامی بحریہ کو اس قدر مضبوط کردیا کہ شاہ فرانس شاہ روم اور شاہ جرمنی اپنی نجات اسی میں سمجھتے تھے کہ اس سے دوستی رکھیں اور اسپین کی بحری یلغاروں سے محفوظ رہیں۔[1] [1] تاریخ ابن خلدون 4/142