کتاب: البیان شمارہ 18 - صفحہ 11
ترجمہ: جس نے کسی خیر کی رہنمائی کی اس کے لئے اتنا ہی اجر ہے جتنا اس خیر کے کرنے والے کا ملے گا۔ اس کی اہمیت کا اندازہ درج ذیل باتوں سے لگایا جاسکتا ہے :  اللہ تعالیٰ بھلائیوں کا حکم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَاۗئِ ذِي الْقُرْبٰى وَيَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ ۚيَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ ][النحل: 90] ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ تمہیں عدل،احسان اور قرابت داروں کو (امداد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برے کام اور سرکشی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں اس لئے نصیحت کرتا ہے کہ تم اسے (قبول کرو) اور یاد رکھو‘‘۔ وضاحت: جب اللہ تعالیٰ حق کی بات کرنے سے نہیں شرماتا تو ہمیں بھی اس معاملے میں کسی قسم کی کوئی شرم، سُستی یا ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری سستی کی وجہ سے وہ شخص اپنی غلطی سے آگاہ نہ ہو اور کل قیامت کے دن ہماری بھی پکڑ ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا حکم دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ ][الا ٔعراف: 199] ترجمہ: ’’(اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم !) درگزر کرنے کا رویہ اختیار کیجئے، معروف کاموں کا حکم دیجئے۔ اور جاہلوں سے کنارہ کیجئے‘‘۔ یہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر رسولوں کی ایک اہم ذمہ داری تھی ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ ۡ