کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 18 - صفحہ 108
اشاعت اسلامی کے ابتدائی دور سمندری حدود کے ذریعے اسلام کی نشرو اشاعت بھی ہوتی تھی،اسلام کی پہلی ہجرت جو ہجرت حبشہ کے نام سے مشہور ہوئی،وہ سمندر کے ذریعے ہی عمل پذیر ہوئی تھی،صحابہ کرام کی سچائی اور توحید خالص کو دیکھ کر حبشہ کا بادشاہ نجاشی مسلمان ہوا تھا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےہجرت حبشہ کرنے والےمسلمانوں کو ’’اصحاب الہجرتین‘‘کہا تھا،اسی طرح سیدناتمیم داری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا سمندری واقعہ سنایا(صحیح مسلم:2942)جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد رسالت میں بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سمندری سفر سے ناآشنا نہ تھے۔ اسلامی بحریہ کا آغاز سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں اسلامی حکومت کا دائرہ مصر و روم تک پہنچ چکا تھا،ان حالات میںمسلمانوں کا بحری قوت کے بارے میں سوچنا وقت کی ضرورت تھا،شام میں ا میر معاویہ رضی اللہ عنہ گورنر تھے،رومیوں سے آئےدن جہادی میدان سجتے تھے،مسلمانوں کے پاس بحری قوت نہ تھی، رومیوں کی فوجیں بحری بیڑےکے ذریعےساحلی علاقوں میں حملہ آور ہوئے اور شدید نقصان پہنچاتے تھے،امیرمعاویہ نے با ربار دربارخلافت سے سمندری فوجیں بنانےاور بحریہ مانگنے کی اجازت مانگی مگر حضرت عمر رضی اللہ انکار کرتے رہے۔آخر کار حضرت عثما ن رضی اللہ عنہ کے دوراس شرط پر اجازت دی کہ کسی مسلمان کو مجبور نہ کیا جائےجو اپنی خوشی سے بحری جہا دمیں جانا چاہے وہ جاسکتا ہے ۔[1] اسی طرح امریکی مورخ فلپ لےہٹی نے(History of the arabs)میں لکھا ہے کہ’’عبداللہ بن ابی سرح‘‘ نے مغرب اور جنوب میں اسلامی سلطنت کو وسعت دینے میں کامیابی حاصل کی۔بلکہ ان کا عظیم کارنامہ ہے کہ وہ اسلامی بحریہ کے بانی تھے۔ان کے رضاعی بھائی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی گورنر کی حیثیت سے ذمہ دار [1] فتوح البلوان1/227،تاریخ ابن خلدون1/412