کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 18 - صفحہ 101
’’ اے اللہ میں تجھ سے طلب کرتا ہوں بخشش اور سلامتی دنیا اور آخرت میں‘‘۔ ایک اور دعا:’اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا‘ ’’اے اللہ میں تجھ سے طلب کرتا ہوں ایسا علم جو مفید ہے،پاک روزی اور ایسا عمل جو مقبول ہو‘‘۔ ایک اور دعا:’اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى‘ اے اللہ میں تجھ سے طلب کرتا ہوں ہدایت،تقویٰ،پاک دامنی اور استغفار۔ ان چار الفاظ پر غور کریں کہ جسے ہدایت مل جائے،جسے اللہ کی طرف سے رہنمائی حاصل ہو جائے اور جو اس کام سے بچ جائے، جو ہواللہ کی ناراضگی کاباعث ہواور جو پاک دامن بھی ہو۔غنی سے مراد اللہ نے اسے اتنا دیا ہو کہ اس کے بعد اسے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہ ہو،اللہ اکبر کتنی عظیم دعا ہے۔ اگر ہم ان دعاؤں کو خود بھی یاد کریں اور گھر میں بیوی اور بچوں کو بھی یاد کرائیں تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے گھروں سے بہت سارے غم ،پریشانیاں اور دکھ ختم ہو جائیں گے۔’لَيْسَ شَيْءٌ أَكْرَمَ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى مِنْ الدُّعَاءِ) فرمایا:’’اللہ کے ہاں دعا سے زیادہ عظمت والا کوئی عمل نہیں۔‘‘ نواں علاج:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود کی کثرت دکھوں ،غموں اور پریشانیوں کا ایک بہتریں علاج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود شریف کا اہتمام ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بڑی اہم نیکی ، گناہوں کی معافی کا سبب، درجات کی بلندی، غم و پریشانی سے نجات ، دعا کی قبولیت کا وسیلہ ہے،سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرتے ہیں کہ میں آپ پر کثرت سے درود پڑھتا ہوں دعا میں آپ پر صلی اللہ علیہ وسلم پر کتنا درود پڑھوں ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تو جتنا چاہے تیرے لیے بہتر ہے پھر تیرا یہ مجھ پر درود پڑھنا تیرے تمام غم دور کردے گا، اور تیرے گناہ معاف ہوجائیں گے‘‘۔