کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 16 - صفحہ 97
تقرر ہوا اور ساتھ ہی جامعہ سلفیہ کی لائبریری کے انچارج بھی بنائے گئے کچھ مدت کے بعد جامعہ سلفیہ سے استعفیٰ دے کر سیالکوٹ تشریف لے آئے اور جامعہ ابراھیمیۃ میانہ پور میں تدریس فرمانے لگے ۔ سیالکوٹ میں آپ کی تدریسی عمر نصف صدی تک محیط ہے درس وتدریس کے ساتھ ساتھ تصنیف وتالیف سے بھی غافل نہیں رہے آپ نے مختلف موضوعا ت پر 35 کے قریب چھوٹی بڑی کتابیں لکھیں ( جو سب مطبوع ہیں) آپ کی یہ کتابیں آپ کے وسعت مطالعہ، علمی تبحر اور عمدہ ذوق کی آئینہ دار ہیں۔ اخلاق وعادات کے اعتبار سے مولانا محمد جانباز رحمہ اللہ نہایت پاکیزہ انسان تھے عزت،شرافت، قناعت اور وجاہت ان کی سیرت کا خاص جوہر تھا۔ زہد وورع ،تقویٰ وطہارت اور شمائل اخلاق میں سلف صالحین اور علمائے ربانییّن کے اوصاف کے حامل تھے اور یہ حقیقت ہے اس میں ذرّہ برابر بھی مبالغہ آرائی نہیں ۔ میں نے علماء میں ایسا شریف،ایسا نیک باطن، ایسا دور اندیش ، ایسا فیاض، ایسا سادہ مزاج، اس پر ایسا مستقل مزاج، خوش اخلاق، شیریں گفتار، باغ وبہار، ایسا خشک اور ایسا تر آدمی نہیں دیکھا ایسا متقی وپرہیزگار اور ساتھی ہی ایسا وسیع المشرب اور وسیع الاخلاق وہ مذہبی تھے اور سخت مذہبی آپ بہت زیادہ متبع سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ مولانا محمد علی جانباز رحمہ اللہ حق گوئی اور بیباکی کے وصف میں امتیازی حیثیت کے حامل تھے۔ راقم کے تقریباً 30۔32 سال سے تعلقات تھے ان جیسا بلند اخلاق وکردار کا حامل عالم دین میں نے نہیں دیکھا بہت زیادہ مہمان نواز اور شرافت کا مجسمہ تھے۔ مولانا جانباز قدرت کی طرف سے بڑے اچھے دل ودماغ لے کر پیدا ہوئے تھے روشن فکر اور دردمند دل اور سلجھا ہوا دماغ پایا تھا ذہین وذکاوت کے ساتھ غیر معمولی حافظہ کی نعمت سے سرفراز تھے۔ ٹھوس اور قیمتی مطالعہ ان کا سرمایہ علم تھا علمی ودینی مسائل کی تحقیق میں ان کوید طولیٰ حاصل تھا تاریخ پر گہری اور تنقیدی نظر رکھتے تھے عربی ادب کے بہترین انشا پرداز تھے اور ان کی عربی واردو تحریر میں سلاست اور روانی ہوتی تھی۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ (م ۷۲۸ھ) حافظ ابن قیم (م ۷۵۱ھ) حافظ ابن حجر (م ۸۵۲ھ) امام