کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 16 - صفحہ 86
مولانا ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری (م ۱۹۴۸ء) مولانا محمد ابراہیم میرسیالکوٹی (م ۱۹۵۶) مولانا حافظ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کامولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ سے خاص تعلق تھا دونوں علمائے کرام ایک ساتھ مذہبی وسیاسی جلسوں میں شرکت کرتے تھے لیکن ان دونوں میں ایک فرق تھا۔ مولانا محمد ابراہیم غیور طبیعت اور سراپا جلال تھے اورمولانا ثناء اللہ نرم طبیعت اور سراپا جمال تھے ۔ مولانا سیالکوٹی صاحب تصانیف کثیرہ تھے آپ نے تقریباً تمام موضوعات پر قلم اٹھایا قرآن کی تفسیر میں ان کو خاص ملکہ حاصل تھا سورۂ فاتحہ کی تفسیر بنام واضح البیان ایک ضخیم جلد میں لکھی ہے جو ۴۸۸ صفحات پر مشتمل ہے صرف ام الکتاب کی اتنی بسیط تفسیر میں کس قدر نکات بیان ہوئے ہوں گے مولانا سیالکوٹی نے صرف آیت ’’ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ‘‘ کی تفسیر دو جلدوں میں بعنوان ’’شھادۃ القرآن‘‘ تالیف فرمائی جو مسئلہ حیات عیسیٰ علیہ السلام پر ایسی گواہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو مردہ بتانے والے بھی ــ’’كَذٰلِكَ يُـحْىِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى وَيُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ‘‘ پکار اُٹھے۔ تصانیف : مولانا سیالکوٹی کثیر التصانیف مصنف تھے ادیان باطلہ کی تردید میں ان کی تصانیف درج ذیل ہیں : تردید عیسائیت :  ۱۔ کسر الصلیب ۲۔ عصمت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۳۔ عصمت الأنبیاء ۴۔ عصمت ونبوت ۵۔ تعلیم القرآن ۶۔ تائید القرآن[1] تردید آریہ سماج : المحقق[2] [1] جماعت اہلحدیث کی تصنیفی خدمات ، ص:186 [2] أیضاً : ص:699