کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 16 - صفحہ 81
مائنڈ کا سیٹ نہ ہونا..........؟ شیخ عبدالوکیل ناصر[1] ہمارے کرم فرما جناب’’یاسر پیرزادہ‘‘ صاحب نے ’’ذراہٹ کے‘‘ کالم لکھاہے، احباب نے مشورہ دیاکہ موصوف کی اصلاح کے لیے قلم کو جنبش دیں ذراڈٹ کے اور شرعی اعتبار سے اس کا تجزیہ بھی کریں۔ موصوف کا عنوان تھا’’ ویلنٹائن ڈے کا رونا‘‘ اگر چہ ہر’’شخص‘‘ کےخیالی خوابوں کو دیکھنا پڑھنا اور تعاقب کرنا کچھ ایسا ضروری بھی نہیں وگرنہ تو منزل تک پہنچنا ناممکن ہوجاتاہے۔ بہر کیف موصوف کی تحریر بے ضمیر نے ہمیں ایک آیت کی طرف توجہ دلادی کہ’’وفیکم سما عون لھم‘‘ کچھ احباب بھی اغیار کے یار ہوتے ہیں۔ جناب نے صحیح فرمایابات ویلنٹائن ڈے کی نہیں مائنڈ سیٹ کی ہے یقیناًاگر جناب کا مائنڈ ہوتا اور پھر سیٹ ہوتا تو وہ کبھی بھی جملہ اہل علم اور احباب خرد ودانش کو انتہا پسندوں کا عذر خواہ قرار نہ دیتے، کیا صدر ممنون حسین بھی جناب والا کی نظر میں انتہا پسندوں کے عذر خواہ قرار پاتے ہیں؟ان انتہا پسندوں کا جو بھی موقف ہو ہمیں ا س سے سروکار نہیں مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ اسلام کی جامعیت میں عقیدہ ، عمل، تہوار، خوشی ، غمی ،لباس، تہذیب وتمدن، ثقافت اور انداز محبت سب کچھ موجود ہے حتیٰ کہ کسی حد تک فنون لطیفہ بھی دستیاب ہے تو پھر یہ کہنا کہ مائنڈ سیٹ کی خرابی ہے یہ کس حدتک صحیح بات ہوسکتی ہے؟ کیا معاشرے کے اخلاق واقدار کی تصحیح کی بات مائنڈ سیٹ کی خرابی ہے؟ افسوس کہ چند نام نہاد اسلامی کلچر کے علمبرداروں کی غلط روش اور غلط طریقہ تنفیذ کو بنیاد بناکر موصوف نے ’’ذراہٹ کے‘‘نہیں بلکہ’’ بالکل ہٹ کے‘‘ اپنے منفی خیالات کا اظہار فرمایا ہے۔سن لیجئے یہاں کوئی کسی کے لباس، تراش وخراش اور خوشی واظہارِ خوشی کا دشمن نہیں۔البتہ’’ان ارید الاالاصلاح‘‘ کے تحت صحیح اور غلط کی نشاندہی ہر مسلمان کا فریضہ ہے رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’’من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه ومن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان‘‘ [1] نائب شیخ الحدیث جامعۃ الاحسان الاسلامیہ منظورکالونی کراچی