کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 16 - صفحہ 69
بالآخر جب حکومت کاپیمانہ صبرلبریز ہوا تو علما ئےکرام سے باقاعدہ فتوی لے کر فوجی ایکشن شروع کیاگیا۔۔۔ اس تصادم میں 300 افراد ہلاک ہوئے جس میں حکومتی اہلکار بھی تھے اورتکفیری نوجوان بھی۔۔۔ بعدازاں حرم کے تہہ خانوں میں مورچہ زن افراد کو باہر نکالنے میں بڑی مشکل پیش آرہی تھی ۔۔کہ کوئی بھی زینوں سے اترکرنیچے جاتاتو اس کو فائرنگ کرکے گرایاجاتاتھا۔۔ پھر تہہ خانے کوپانی سے بھر کر اس میں کرنٹ چھوڑاگیا تو زخمی حالت میں 70 افراد باہر آئے جن میں ان کا لیڈر جہیمان بھی تھا ۔ان افراد کو پھانسی دے دی گئی۔۔ نام نہاد امام مہدی کی لاش مل گئی تھی۔یہ ساری کارروائی 9دن میں پوری ہوئی ۔۔۔۔ مسلمان حکومتیں اور عوام الناس اس ہولناک واقعے سے لرز کر رہ گئے تھے۔ اس وقت سوشل میڈیا بھی نہ تھا اور موبائل فون بھی نہیں ،امام کعبہ امام ابن سبیل نمازیوں کے بھیس میں باہر آئے تو حکومت کو تکفیریوں کے دعوؤں اور کارروائیوں سے آگاہ کیا۔ امام کعبہ کے بیان کی روشنی میں فوجی ایکشن عمل میں لایاگیا۔آج بھی یوٹیوب پر ویڈیوز موجودہیں اور 1979ء کے اخبارات سے اس واقعے کی بعض تفصیلات مل سکتی ہیں۔ اس طویل بیانیے کا مقصد صرف اورصرف موجودہ دور کے پر خلوص نوجوانوں کو دھوکے سے بچاناہے۔اور واضح کرناہے کہ مطلب پرست علما سوء اور دہشت گردوں کے سرپرست کس طرح قرآنی آیات اوراحادیث کواپنے مطلب کے لیے استعمال کرتے ہیں تکفیریوں کی کارروائیوں سے فائدے کی بجائے الٹا نقصانِ عظیم ہوتاہے۔امت کے پرخلوص جان نچھاور کرنے والے افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں اوران کے بعد مسلم عوام کوفتنوں کے داغ صاف کرنے میں صدیاں بیت جاتی ہیں ۔بھلا کعبہ پر قبضہ کرنے اور طواف کو روک دینےسے بڑا جرم کیا ہوسکتاہے؟!۔ حرم میں ناحق خون بہانے سے کون سی خلافت قائم ہوسکتی ہے؟ آج داعش اور تکفیری افراد کا بڑا نشانہ حرمین شریفین کی حکومت و علما کیوں ہیں؟ آج بھی ان کا نشانہ صرف اور صرف مسلم ممالک اور ان کی بے گناہ عوام کیوں بنتے ہیں؟ !! بھلا مساجد اور اسکولوں کے بچوں کا کیا قصور ہے کہ عالمی سیاست کا انتقام ان سے لیاجائے۔۔۔۔