کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 16 - صفحہ 50
کو دیکھتے ہیں وہ اس غرض سے نہیں دیکھتے کہ اس سے علم ، نصیحت اور عبرت حاصل کریں بلکہ وہ تفریح طبع کیلئے یہ فلمیں دیکھتے ہیں ۔ دوسری جو بات ہے وہ یہ کہ تبلیغ وترویج کامنہج وذریعہ وہی قابل قبول ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعین کیا ہو ،ناجائز اور حرام طریقوں سے دین کی اشاعت نہ صرف مردود ، بلکہ موجبِ گناہ ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’لاَ يَأْتِي الْخَيْرُ إِلاَّ بِالْخَيْرِ‘‘ ۔[1] ’’ خیروبھلائی صرف خیر اور اچھےراستےسے ہی آتی ہے ‘‘۔ عرب کے ہاں ایکمحاورہ ہے :’’ کیف یقوم الظل والعود اعوج ‘‘ ۔ جب چھڑی ہی ٹیڑھی ہو تو سایہ کیسے سیدھا ہوسکتاہے ۔ اس لئے یہ محض دل کو تسلی دینے اور خود اور عامۃ الناس کو گمراہ کرنے کی بات ہے حقائق سے اس کا دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ ان فلموں وڈراموں میں کیا اور کس طرح دکھایا جاتاہے ؟ ان فلموں میں سیدنا آدم علیہ السلام ،سیدنا یوسف علیہ السلام ،سیدنا سلیمان علیہ السلام ،سیدناابراہیم علیہ السلام ،سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ،سیدنا مریم علیہا السلام کے فرضی کردار پیش کئے گئے ہیں۔ ان فلموں میں کئی مقامات پر نبی کا فرضی کردار کرنے والے کو اے نبی(علیہ السلام) ،اے یوسف (علیہ السلام)،اے ابراہیم(علیہ السلام) ،اے پیغمبر(علیہ السلام) کہہ کر پکارا گیا ہے۔ اسی طرح یہ فرضی کرداربھی کئی مقامات پر اپنے ڈائیلاگ سے خود کو اللہ کا پیغمبر کہتے ہیں۔ ان فلموں میں انبیاء علیہم السلام کے ناموں سے جن کرداروں کو دکھایا گیا ہے ان کو بار بار اس طرح پکارا جاتا ہے جیسے کسی عام آدمی کو پکاراجاتا ہے ۔کہ ہم وہ کرتے ہیں جو محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمیں کہتے ہیں۔محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہمیں بتایا کہ ایک اللہ کی عبادت کرو۔ [1] صحيح بخاری : کتاب الرقاق ، باب ما یحذر من زھرۃ الدنیا والتنافس فیھا َ