کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 16 - صفحہ 5
اسی آرٹیکل میں ایک اور وجہ یہ بھی بیان کی گئی کہ : Acceptance of domestic violence:.... A 2012 report by UNICEF found that 57 percent of Indian boys and 53 percent of girls between the ages of 15 and 19 think wife-beating is justified. A recent national family-health survey also reported that a sizable percentage of women blame themselves for beatings by their husbands.[1] اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ ایسے جرائم کے بڑھنے کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خواتین کی طرف سے گھریلو تشدد کو قبول کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق 15 سال سے 19 سال کی عمر کے 57 فیصد لڑکے اور 53 فیصد لڑکیاں بیوی کو مارنا صحیح سمجھتے ہیں۔ اور ایک سروے کے مطابق عورتوں کی بڑی تعداد شوہروں کی طرف سے مارے جانے پر خود کو قصوروار سمجھتی ہیں۔ ذرا دیکھیں بالکل یہی موضوع سخن ملک پاکستان کے تازہ تحفظ نسواں بل کا ہے جس کی وجہ یہ ڈاکیو مینٹری ہے ، لیکن کیا یہ ڈاکیومینٹری انڈیا کی ان عورتوں کے بارے میں بنائی گئی؟؟ بہرحال مختصر یہ کہ ایک پاکستانی نژاد نے ایک بے سروپا ڈاکیو مینٹری بناڈالی اور جس پر آسکر ایوارڈ اور یقیناً ڈالر بھی کھرے کرلئے ہوں گے۔افسوس کہ مذکورہ بالا ساری تفصیل کو سامنے رکھنے کے بعد اس ڈاکیو مینٹری کی مذمت کی جاتی ، مگر ہمارے وزیراعظم صاحب نے انہیں خصوصی طور پر وزیراعظم ہاؤس مدعو کیا، اور پھر اسی ڈاکیو مینٹری ہی کے اثرات میں سے پنجاب اسمبلی میں ایک بل جوکہ اگر چہ 25 مئی 2015ء میں پیش کیا گیا تھا،جسے تحفظ نسواں بل (Women Protection Bill) کا نام دیا گیا ،اس فلم کے آسکر ایوارڈ ملنے کے دنوں میں مرد ارکان اسمبلی کی کثیر تعداد کی عدم موجودگی میں منظور کروالیا گیا ، اور پنجاب گورنمنٹ اور وزیراعظم صاحب نے اس پر مغرب سے خوب داد بھی وصول کی۔ تحفظ نسواں بل میں موجود خرابیاں : جس ڈاکیومینٹری پر یہ بل پیش کیا گیا اس کی حیثیت کو تو ہم جان ہی چکے ہیں، اب ذرابات [1] https://www.washingtonpost.com/ news/worldviews/wp/2012/12/29/india-rape-victim-dies-sexual-violence-proble/