کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 16 - صفحہ 43
اسماء بنت عمیس بن معبد رضی اللہ عنہما : آپ کی کنیت ام عبداللہ تھی،یہ بھی ابتدائی دور میں اسلام لائی تھیں اپنے شوہر سیدنا جعفر بن ابی طالب کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی جنگ موتہ میں ان کی شہادت کے بعد سیدناابوبکر نے ان سے نکاح کرلیاان سے محمدپیداہوا۔ حبیبہ بنت خارجہ بن زید الانصاریہ رضی اللہ عنہما : ان سے سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ نے ’’سخ‘‘ نامی جگہ پرنکاح کیا اور آپ کی وفات کے بعد ایک بیٹی ام کلثوم پیداہوئی۔ آپ کی اولاد کا تعارف : آپ کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔ سب سےبڑے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ تھے یہ صلح حدیبیہ کے موقع پر اسلام لائے۔بڑےبہادر وشجاع تھے کئی مواقع پر اپنی بہادری کالوہامنوایا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ : ہجرت کے موقع پر نمایاں کردار اداکیا دن کے وقت اہل مکہ میں رہ کر ان کی باتیں سنتے پھر رات کی تاریکی میں غار ثور جاکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدناابوبکر کو جاکر مکمل رپورٹ دیتے۔طائف کی جنگ میں تیر لگا جس کا زخم تادیر رہا اسی کے نتیجے میں سیدنا ابوبکرکے دورخلافت میں وفات پائی۔ محمد بن ابی بکر:سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہما کے بیٹے ہیں حجۃ الوداع والے سال پیداہوئے ،سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گودمیں پروان چڑھے،سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے عہد میں والئی مصربنایا، وہیں شہادت پائی۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما : یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے بڑی تھیں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ’’ذات النطاقین‘‘ کا لقب عطاکیاتھا ،اس کاسبب یہ تھا انہوں نے ہجرت کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے والد کے لیے