کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 16 - صفحہ 42
پھر انہوں نے ان سب فتنوں کے خلاف باقاعدہ اعلان جنگ کیا اور ان کا بہترین علاج کیا اور ان تمام فتنوں کا استیصال کرکے سلطنت اسلامیہ کوان فتنوں سے بالکل پاک صاف کردیا اور اللہ پاک نے انہیں کامیابیوں سے ہمکنار کیا۔[1] بیویاں اور اولاد: آپ کی بیوں کی تعداد چار تھی ،آپ کی اولاد تیں بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں بیویوں کی تفصیل حسب ذیل ہے: قتیلہ بنت عبدالعزی بن اسعدبن جابر مالک : ان کے قبول اسلام کے بارے میں اختلاف ہے،عبداللہ اور اسماء کی والدہ تھیں،سیدنا ابوبکر نے انہیں زمانہ اسلام سے قبل ہی طلاق دے دی تھی،ایک دفعہ یہ کچھ تحائف لے کر اپنی بیٹی سیدہ اسماء کے گھر آئیں تو انہوں نے تحائف کے لینے سے انکار کردیا اور گھر میں بھی داخل ہونے نہ دیا اور سیدہ عائشہ کے پاس پیغام بھیجا کہ میرے اس عمل کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیاجائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’لتدخلھا ولتقبل ھدیتھا‘‘اپنی والدہ کوگھرمیں داخل ہونے اجازت دینی چاہیے اور تحائف بھی قبو ل کرنے چاہئیں۔ ام رومان بنت عامر بن عویمر رضی اللہ عنھا: ان کاتعلق بنی کنانہ سے تھا ان کے پہلے شوہر حارث بن سخبرہ کی وفات کے بعد سیدنا ابوبکرنے ان سے نکاح کیا یہ اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمان ہوگئی تھیں ،مدینہ کی طرف ہجرت بھی کی،آپ سیدنا عبدالرحمن اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھما کی والدہ تھیں،6ھ کو مدینہ میں وفات پائی۔ [1] سیرت ابوبکر صدیق(مترجم)از ڈاکٹر محمد علی صلابی،1/476-484