کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 16 - صفحہ 41
انجام دیتے تھے ۔ مفتوحہ علاقوں کانظم ونسق اور دیگر امور یہ امراء انجام دیتے ان علاقوں کے باسیوں کی تعلیم وتعلم کاانتظام کیاجاتا ۔ ان مراء کی ذمہ داری زکوٰۃ کی وصولی اور اس کی تقسیم بھی ہوتی تھی ،اور غیر مسلموں سے جذیہ بھی وصول کرتے اور اسے اور زکوٰۃ کے مال کو بیت المال میں بھی جمع کراتے، اور سب سے بڑی ذمہ داری یہ تھی کہ اپنے اپنے علاقوں میں امن وامان کو قائم کرنا اور حدوداللہ کا نفاذ ۔ مرتدین اور مانعین زکاۃکی سرکوبی: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کئی فتنوں نے سر اٹھایا ،کچھ لوگ مرتدہوگئے کچھ نے زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کردیا ،یہ بھی کئی اقسام میں بٹ گئے،ایک گروہ بتوں کی عبادت کی طرف لوٹ گیا ایک گروہ مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی جیسے جھوٹے مدعیان نبوت کا پیروکار بن گیا،ایک گروہ نے زکاۃ کے دینے سے انکار کردیا کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھی چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے ہیں اس لیے یہ حکم باقی نہ رہا۔ ایک چوتھا گروہ وہ تھا جومطلقا ًزکاۃ کا منکر ہوگیا تھا الغرض ان کے خلاف جہاد کیا بعض صحابہ نے مشورہ دیاکہ مانعین زکاۃ سے صرف نظر کرلیاجائے تو آپ نے اس رائے کو شدت کے ساتھ رد کرتے ہوئے تاریخی جملہ ارشاد فرمایاجو آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہے: ’’واللہ! لاقاتلن من فرق بین الصلاۃ والزکاۃ فان الزکاۃ حق المال واللہ! لو منعونی عناقا کانوا یؤدونہ الی رسول اللہﷺلقاتلتھم علی منعہا‘‘ اللہ کی قسم!میں اس شخص سے ضرور جنگ کروں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرےگا کیونکہ زکاۃ مالی حق ہے ،اللہ کی قسم! اگر انہوں نے مجھے بکری کا وہ میمنا دینے سے بھی انکار کیا جووہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ادا کرتے تھے تو میں اس پر بھی ان سے جنگ کروں گا۔ ایک روایت میں رسی کے الفاظ بھی ہیں کہ اگر اس رسی کو کہ جس سے اونٹ باندھا جاتاہے وہ بھی نہ دیا تو اس کے حصول کےلیے میں ان سے جنگ کروں گا۔