کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 16 - صفحہ 4
انڈیا میں جنسی تشدد (Sexual violence)جس عروج پر ہے کاش کہ اس حوالے سے کوئی ڈاکیو مینٹری بنائی جاتی۔ مثال کے طور پر نئی دہلی انڈیا میں 23 سالہ ایک میڈیکل کی اسٹوڈنٹ لڑکی جو اجتماعی زیادتی (gang rape ) کا شکار ہوئی اور مرگئی ، کاش کہ اس پر کوئی ڈاکیو مینٹری بنائی جاتی۔2012ء میں نئی دہلی کو انڈیا کا “rape capital” قرار دیا گیا تھا۔ لیکن اس پر کوئی ڈاکیو مینٹری !! واشنگٹن پوسٹ ویب سائٹ پر میں نے ایک آرٹیکل دیکھا جوکہOlga Khazan and Rama Lakshmi کی طرف سے لکھا گیا تھا، جس میں انڈیا میں جنسی تشدد کے کثرت سے بڑھتے ہوئے واقعات کی 10 وجوہات بتائی گئی تھی ۔ان میں سے ایک وجہ تو وہی ہے جو آج ماڈرن کلچر کے نام پرملکِ پاکستان کے کلچر کا حصہ بنتا جارہا ہے۔ آئیے انہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں: Blaming provocative clothing: 'There's a tendency to assume the victims of sexual violence somehow brought it on themselves. In a 1996 survey of judges in India, 68 percent of the respondents said that provocative clothing is an invitation to rape. In response to the recent gang-rape incident, a legislator in Rajasthan suggested banning skirts as a uniform for girls in private schools, citing it as the reason for increased cases of sexual harassment اس عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ عورتوں کا غیر مناسب لباس پہننا جنسی تشدد کے اسباب میں سے بڑا سبب ہے، حتی کہ 1996 میں کے ججز کے ایک سروے کے مطابق 68 فیصدرائے دہندگان یہ کہتے ہیں کہ اشتعال انگیز کپڑے جنسی تشدد کے لئے ابھارتے ہیں۔حتی کہ راجستھان کے حکمران نے یہ مشورہ دیا کہ لڑکیوں کے لئے ممنوع قسم کے اسکرٹ کو بطور یونیفارم کے استعمال کرنا جنسی تشدد کے واقعات کے بڑھنے کا سبب ہے۔ کاش عورت کے صحیح تحفظ کی آوازبلند کی جاتی ، اور اس کی سب سے پہلی کڑی یہی ہوتی کہ عورت کے ملبوسات کے حوالے سے اسلامی اور مشرقی تہذیب کو برقرار رکھا جاتا ،جس میں عورت کی حیثیت اور مقام بھی برقرار ہے اور اسکی عزت و عصمت کی ضمانت بھی موجود ہے۔