کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 16 - صفحہ 31
عتیق: آپ کو عتیق کیوں کہا جاتا ہے ؟ اس کی چندوجو ہات ذیل میں ذکر کی جاتی ہیں: پہلی وجہ آپ کی والدہ ماجدہ کی اولاد زندہ نہیں رہتی تھی، جب آپ کی ولادت ہوئی تو آپ کی والدہ محترمہ آپ کو بیت اللہ شریف لے گئیں اور دعاکی :’’اے اللہ! انہیں موت سے آزاد کرکے میری خاطر زندگی عطا فرمادے‘‘دعاقبول ہوئی اور آپ کا لقب مبارک عتیق ہوگیا[1] دوسری وجہ جامع ترمذی میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے : ’’أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتَ عَتِيقُ اللَّهِ مِنْ النَّارِ فَيَوْمَئِذٍ سُمِّيَ عَتِيقًا‘‘۔[2] ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقد س میں حاضر ہوئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم من جانب اللہ جہنم کی آگ سے آزاد (محفوظ) ہو،اسی دن سے آپ کو عتیق کہا جانے لگا ۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما ہی سے دوسری روایت ہے،آپ فرماتی ہیں: ’’ایک دن میں اپنے گھر میں موجود تھی ، باہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے، میرے اور صحابہ کے درمیان پردہ حائل تھا ،اچانک سیدناابوبکررضی اللہ عنہ حاضر خدمت ہوئے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر فرمایا: [1] تاریخ دمشق13/35،شرح مواہب زرقانی1/445۔ [2] جامع ترمذی، ابواب المناقب، باب مناقب أبي بكر الصديق رضي الله عنه، حدیث نمبر:3679، الاحسان فی تقریب صحیح ابن حبان 15/280،اسنادہ صحیح