کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 16 - صفحہ 27
دیگر دونوں صورتیں جائز متصور ہوں گی۔ اور عملِ عام (رواج) عدم دلیل کی وجہ سے قابلِ ترک ہوگا، جیسے دعائے قنوت کے بعد ہاتھوں کا منہ پر پھیرنا حدیث سے ثابت ہے نہ عمل صحابہ سے۔ اس لئے اس کا ترک ضروری ہوگا۔ الّا یہ کہ اس کو دلیل سے ثابت کر دیا جائے۔ 3 : رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کا مسئلہ ہے بعض علمانے سنن نسائی کی ایک روایت کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے قومے میں (بعد از رکوع ) ہاتھ باندھنے کو ضروری قرار دیا ، جب کہ دوسرے علماء نے اس استدلال سے اتفاق نہیں کیا اور اس کا مفہوم یہ بیان کیا کہ آپ جب بھی نماز کے لئے قیام فرماتے ، تو ہاتھ باندھ لیتے ۔ اذا قام سے مراد نماز کا اولین قیام ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کی نیت سے کھڑے ہوتے، تو ( تکبیرِ تحریمہ کے بعد ) ہاتھ باندھ لیتے، نہ کہ مطلق قیام ، جس میں رکوع کے بعد کا قومہ بھی شامل ہو جائے، کیونکہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کے بعد بھی ہاتھ باندھے ہوتے، تو صحابہ کرام آپ کی کیفیتِ نماز میں اس کو بھی ضرور بیان کرتے۔ جب صحابہ نے یہ کیفیت بیان نہیں کی تو اذا قام کے عموم سے اس کا اثبات نہیں ہوسکتا۔ کسی خاص بات کے اثبات کے لئے دلیلِ خاص کا ہونا بھی ضروری ہے، اس کے بغیر اس کا اثبات نہیں ہو سکتا۔ 4 : اس کی ایک اور مثال یہ ہے کہ کھانا کھانے سے قبل اور اسی طرح وضو کرنے سے قبل بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پوری پڑھی جائے ، یا صرف بسم اللہ کے الفاظ کا پڑھ لینا ہی کافی ہے ؟ علمائے اہلِ حدیث میں سے بعض نے کہا کہ بسم اللہ پوری پڑھی جائے، اور بعض نے کہا کہ چونکہ حدیث کے الفاظ ہیں بسم اللہ ( اللہ کا نام لو ) تو صرف بسم اللہ ہی کے الفاظ پڑھے جائیں ۔ یہ اختلاف صرف فہمِ حدیث کا اختلاف ہے۔ دونوں ہی رائیں ایسی ہیں کہ ان کی کچھ نہ کچھ بنیاد ہے، اس لئے یہاں راجح مرجوح کی بات تو ہو سکتی ہے ، لیکن غلط کسی کو بھی نہیں کہا جا سکتا ، مگر بعض لوگ اسے علمائے اہلِ حدیث کا باہمی تضاد اور تعارض قرار دے رہے ہیں۔ ناطقہ سر بہ گریباں ہے ، اسے کیا کہیے؟