کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 16 - صفحہ 21
نہیں ہے۔[1] قُصّاص واعظین قسم کے علماء کا ایک گروہ صدیوں سے ایسا چلا آرہا ہے اور جس کی اب بھی کثرت ہے ،جو دوسرے مسلک کا قائل ہے اور وہ فضائلِ اعمال میں ضعیف بلکہ موضوع روایا ت تک بیان کرنے سے دریغ نہیں کرتا ۔اسی گروہ کی بدولت مسلمان معاشروں میں ضعیف احادیث عوام میں بہت مشہور ہیں اور ان پر عمل بھی عام ہے ،حالانکہ علما ئے محققین کے نزدیک یہ مسلک صحیح نہیں ہے ۔ جب ضعیف حدیث کی نسبت ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف محقّق (ثابت) نہیں۔ تو اس حدیث سے کسی عمل کا استحباب کیوں کر ثابت ہو سکتا ہے؟تاہم محدثین کا ایک گروہ تیسرے مسلک کا قائل ہے ،لیکن یہ مسلک چوتھے مسلک ہی کے ساتھ جاملتا ہے ،جب اس میں یہ شرط بھی موجود ہے کہ اس میں ضعف بھی شدید نہ ہو اور وہ کسی اصل عام کی تحت بھی داخل ہو تو گو یاعمل تو صحیح حدیث کے عموم پر ہی ہوا، نہ کہ ضعیف حدیث پر ،اس لیے سیدھے طریقے پر یہی کہا جائے کہ چوتھا مسلک ہی صحیح اور قابل عمل ہے اور وہ یہ ہے کہ ضعیف حدیث ،اس کا تعلق احکام و مسائل سے ہو یا فضائل سے،ناقابل عمل ہے ۔ جن علمائے محققین نے اس نقطہ نظر سے احادیث کی جانچ پرکھ کی ہے، انہوں نے محدثین ہی کا منہج اختیار کیا ہے اور وہی کام کیا ہے جو امام بخاری وامام مسلم ،مؤلفین سنن اربعہ اور دیگر محدثین نے کیا ہے، اس لیے اسی مسلک ومنہج کو اختیارکرنے اور اسے ہی فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔ اہل حدیث عوام و خواص سے چند گزارشات اس موقع پر ہم مناسب اور ضروری سمجھتے ہیںکہ اہل حدیث عوام و خواص سے بھی کچھ گزارشات کریں۔ ہم جانتے ہیں کہ ضعیف حدیث اور اس کے بارے میں محدثین کے جس مسلک کی ہم نے وضاحت کی ہے ،وہ اہل حدیث حضرات کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے ،ان کا الحمد اللہ یہی مسلک ہے [1] ضعیف احادیث کی معرفت اور ان کی شرعی حیثیت