کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 16 - صفحہ 110
بھوجیانی رحمہم اللہ اجمعین[1] ۳۔ اختلافی مسائل میں فقہاء ومحدثین کے اختلاف واقوال کے دلائل سے بیان فرمایا ہے۔ ۴۔ باطل نظریات کی تردید کی ہے ۔ ۱۔تردید رافضیت ۲۔تردید خوارج ومعتزلہ ۳۔ تردید قادیانیت ۴۔ تردید منکرین حدیث [2] خلاصہ کلام بلاشبہ انجاز الحاجہ کا شمار حدیث کی اہم شروحات میں ہوتاہے اور مولانا محمد علی جانباز رحمہ اللہ کا شمار مسلک سلف صالحین ومحدثین کے نمائندہ علماء میں ہوتاہے شروحاتِ حدیث کی تاریخ’’انجاز الحاجہ‘‘ کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی اور برصغیر کے علمائے حدیث میں مولانا جانباز کا نام گرامی ہمیشہ درخشاں رہے گا آنے والے مؤرخین اس حقیقت کو ضرور تسلیم کریں گے۔[3] وفات : مولانا محمد علی جانباز کافی دنوں سے علیل چلے آرہے تھے علاج معالجہ جاری رہا آخر مرض بڑھتا گیاجوں جوں دوا کی۔ مولانا نے ۱۳ دسمبر ۲۰۰۸ء مطابق ۱۴ ذی الحجہ ۱۴۲۹ھ اس دنیائے فانی سے رحلت فرمائی۔ انا للہ وانا إلیہ راجعون پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی برادر صغیر علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید نے نماز جنازہ پڑھائی اور قبرستان حسین شاہ سیالکوٹ میں مدفون ہوئے ۔ اللھم اغفرہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ وأدخلہ جنات الفردوس [1] ایضاً ، ص : 729۔730 [2] ایضاً : ص : 742تا 744 [3] ایضاً : ص:764