کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 14-15 - صفحہ 129
’’ حزبیت‘‘ ایک ایسا ناسور ہے جس نے اسلامی معاشرے کی بنیادیں ہلاکررکھ دی ہیں،ایک امت کہلانے والے ،ایک اللہ کو ماننے والے،ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ایک قرآن کو ماننے والے ،ایک قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنےوالےآج اس حزبیت کی نحوست کی وجہ سے آپس میں دست وگریبان ہیں، ایک دوسرے پر کفر کے فتوے داغے جارہےہیں،ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہےہیں،ہوناتویہ چاہیے تھاکہ یہ آپس میں شیروشکر ہوتے،ایک دوسرے کےغم خواربنتے ایک دوسرے کے کام آتے[اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ ]’’مؤمن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں‘‘۔[سورہ حجرات:10 ]اور[ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِکُمْ]’’سو تم اللہ سے ڈرو اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کرو‘‘۔[سورہ انفال:1 ]کی عملی تصویرہوتے۔ہمارے سامنے ہمارے اسلاف کی مثالیں موجودہیں کہ وہ کس طرح ایک دوسرے کے غم خوار وغم گساربنے، مؤاخات کی ایسی مثال قائم کی کہ آج اس کی نظیرملنابھی بہت مشکل ہے،حالانکہ اسلام سے قبل وہ رنگ ونسل کے اعتبار سے ایک دوسرےسے بہت مختلف تھے،لیکن اس دین کی وجہ سے وہ سب ایک دوسرے کے بھائی بن گئےاور اس عظیم الشان اخوت کا ذکر اللہ پاک نے یوں کیاہے: [وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَيْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَاۗءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہِ اِخْوَانًا ] ’’اور اللہ تعالیٰ کی اس وقت کی نعمت کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے،تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی،پس تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی بن گئے‘‘۔ [سورہ آل عمران:103] اسلام نےہمیشہ اتحادو اتفاق کی دعوت دی ہے۔اللہ پاک کا ارشادگرامی ہے: [وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِيْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا ] [سورہ آل عمران:103] ترجمہ:’’ اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو‘‘ نیز فرمایا :  [ اِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْنِ 92؀] [سورہ انبیاء:92] ’’ یہ تمہاری امت ہے جو حقیقت میں ایک ہی امت ہے، اور میں تم سب کاپروردگار ہوں پس تم میری ہی عبادت کرو‘‘