کتاب: سہ ماہی مجلہ البیان شمارہ نمبر 13 - صفحہ 89
اور پھر یونیورسٹی سے پڑھ کر آنے والا طالبعلم صرف انجینئر، ڈاکٹریا محض کسی اور دنیاوی علم و فن سے آشنا نہ ہو بلکہ وہ ایک ڈاکٹر ،انجینئر وغیرہ ہونے کے ساتھ ساتھ قاری ،حافظ ،مفتی ، فارغ التحصیل عالم بھی ہو۔ اور اگر ایسی فضاء بن جاتی ہے تو یقیناً یہ فضاء بڑی آئیڈیل اور لائق تحسین ہوگی۔ ایسی صورت میں بھی ہم یہ ضرور کہیں گے کہ کم از کم مدارس کے ساتھ ایسی زیادتی نہ کی جائے کہ اس کا کوئی پرسانِ حال نہ ہو، بلکہ اس کا بھی ایک ایسا بورڈ ہو جسے مکاتب فکر کے ہاتھ میں نہ دیا جائے بلکہ گورنمنٹ ہی کے ہاتھ میں دیا جائے، اور گورنمنٹ تمام تر مفادات سے بالا تر ہوکر صرف ایک ہی اساسی ضابطہ بنائے جوکہ قرآن و سنت ہے،کہ یہ بورڈ قرآن و سنت کی اتباع(Follow) کرے گا۔ اور کسی مکتبہ فکر کو نہیں۔ اس لئے کہ یہ دونوں ہی ایسے مراجع ہیں کہ جس کا کو ئی مکتبہ فکر انکار نہیں کرسکتا۔ اور پھر جس طرح سیکنڈری، انٹرمیڈیٹ پوزیشنوں اور اچھے نمبروں والے طلباء ممبر شپ اور بھاری انعامات کے مستحق ٹھہرتے ہیں تو ان مدارس کےلئے بھی ایسا سلسلہ کیا جائے اور جس طرح اسکولوں کے لئے باقاعدہ ایک بجٹ میں سے ایک مخصوص حصہ ہوتا ہے، ان مدارس کے لئے بھی مخصوص حصہ ہونا چاہئے،بلکہ اگر یہ تقسیم بر قرار ہی رکھنی ہے تو مدارس کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے وہ تمام جدید سہولیات بھی فراہم کی جائیں جو اسکولوں کو میسر ہیں۔دینی مدارس میں عصری علوم کی تعلیم کا راگ الاپنے والے اگر دین اور ان طلباء کے ساتھ مخلص ہیں تو پھر انہیں اسی جڑ کی نشاندہی اور اس کے خاتمے کی بات کرنی چاہئے۔ آخر میں دعا ہے کہ اس ملک میں ایسا نظامِ تعلیم آئے جو ساری دنیا کے لئے آئیڈیل بن جائے۔ و صلی اللہ علی نبینا و علی آلہ و صحبہ وسلم