کتاب: اعلاء السنن في الميزان - صفحہ 430
اور وہ ہے ’اللھم صل علی محمد الخ ‘ امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ بھی ’من لم یصل‘ فرما رہے ہیں۔ ’من لم یسلم‘ نہیں کہہ رہے۔ لہٰذا ’’صلاۃ‘‘ سے سلام مراد لینا نہ معناً صحیح ہے نہ ہی اصلاً۔ دوسری بات یہ کہ احناف کے نزدیک ’’تشہد‘‘ فرض نہیں،بلکہ بقدر تشہد بیٹھنا فرض ہے۔ فقہ کا مشہور ومتداول متن قدوری[1] میں فرائض نماز کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے۔ ’ والقعدۃ الأخیرۃ مقدار التشہد‘ اور آخری قعدہ بقدر تشہد ۔ بلکہ خود مولانا صاحب نے بھی اس کی وضاحت کی ہے کہ ((فالمراد بالتشہد فی ھذا الحدیث ھو الجلوس قدرہ عندنا)) [2] ’’اس حدیث میں ہمارے نزدیک تشہد سے مراد تشہد کی مقدار بیٹھنا ہے۔‘‘ لہٰذا جب سرے سے ’’سلام‘‘ کیا التحیات للّٰہ الخ پڑھنا ہی فرض نہیں، تو امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ کے قول میں ’من لم یصل‘ سے ’’سلام‘‘ مراد لینا تشہد کو فرض قرار دینے کے مترادف ہے۔کیونکہ امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کہ جو تشہد میں صلاۃ نہ پڑھے وہ نماز دوبارہ پڑھے۔ اور خود مولانا صاحب نے لکھا ہے ’’عمداً تشہد چھوڑنا مکروہ ہے اگر اعادہ نہ کرے گا تو نماز کفایت کرے گی۔‘‘ بتلائیے امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ کے قول کی یہ خانہ ساز تاویل خود حنفی مسلک کے بھی موافق ہے؟ امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ صلاۃ نہ پڑھنے پر اعادہ نماز کا حکم دیتے ہیں جبکہ حنفی مسلک میں یہ بتلایا گیا ہے کہ تشہد نہ پڑھے تو اعادہ ضروری نہیں نماز کفایت کر جائے گی۔ جس سے یہ بات نمایاں ہو جاتی ہے کہ امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو حجت کہنا محض تائید مسلک کا شاخسانہ ہے، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہ موقف نہیں۔ خود مولانا صاحب نے ہی ذکر کیا ہے کہ امام ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میت اگر عورت ہو تو اس کا خاوند، باپ کی بجائے نماز جنازہ پڑھانے کا زیادہ حق دار ہے۔ مولانا صاحب فرماتے ہیں: اس کی سند صحیح
[1] قدوری: 39. [2] اعلاء السنن: 121/3نیز: 131/3.