کتاب: اخلاق و آداب - صفحہ 382
﴿ لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍo﴾ (آل عمران: ۱۶۴) ’’بلاشبہ یقینا اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا جب اس نے ان میں ایک رسول انھی میں سے بھیجا، جو ان پر اس کی آیات پڑھتا اور انھیں پاک کرتا اور انھیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے، حالانکہ بلاشبہ وہ اس سے پہلے یقینا کھلی گمراہی میں تھے۔ ‘‘ اس طرح ہمارے لیے واضح ہو گیا کہ اخلاق کو شریعت اسلامیہ میں بہت بلند مقام حاصل ہے۔ بلکہ وہ شریعت کا مرکزی ہدف و مقصد ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کا ایسا جزو ہے جو اپنی اصل سے علیحدہ نہیں ہو سکتا اور وہ ہر زمانے اور ہر مقام کے لیے مفید ہے اور معاملات کے لیے وہ تمام لوگوں کو ایک میزان میں رکھتی ہے۔ لیکن دنیاوی نظاموں میں ایسی کوئی خاصیت نہیں کیونکہ وہ اپنے ماننے والوں کے لیے حقیقی سعادت کی ضمانت نہیں دیتے۔ پس اللہ تعالیٰ کی تمام تعریفات اور اس کا ہم پر کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں امت اسلام میں سے بنایا اور ہم اس کے اس عطا کردہ مکارم اخلاق کے لیے اسی کے شکر گزار ہیں ۔ اس بحث کے خاتمے میں ہر مومن اور مومنہ کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اسلامی اخلاق کے زیور سے اپنے آپ کو آراستہ کریں کیونکہ غیر مسلم لوگ اسلام کے متعلق ہمارے اخلاق دیکھ کر ہی فیصلہ کرتے ہیں کہ اسلام کو ماننے والے اپنے تصرفات و معاملات میں کیسے اخلاق پیش کرتے ہیں ۔ لہٰذا تم ایسے ہی ہو جاؤ جیسا کہ تمہیں اللہ اور اس کا رسول دیکھنا چاہتے ہیں اور تم تمام لوگوں کی بھلائی چاہنے والی امت بن جاؤ ۔ جو اپنے ایمان، احسان، اخلاق اور اپنی زندگی کے تمام اعمال میں سب کے خیرخواہ بن جائیں ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وہ اپنی کتاب اور اپنے رسول کے ذریعے ہمیں نفع پہنچائے۔ بے شک وہ سننے والا اور نہایت قریب سے جواب دینے والا ہے۔ وَ آخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن