کتاب: اخلاق و آداب - صفحہ 378
امام مالک رحمہ اللہ نے ہارون الرشید عباسی خلیفہ سے فرمایا: ’’جب تم کچھ علم سیکھو تو اس کا اثر، اس کی تسکین، اس کی علامت اور اس کا وقار تم پر دکھائی دینا چاہیے۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علماء کی فضیلت کے بارے میں فرمایا: ((اَلْعُلَمَائُ وَرَثَۃُ الْاَنْبِیَائِ)) [1] ’’علماء نبیوں کے وارث ہیں ۔‘‘ علماء کے اخلاق کے بارے میں د/ہشام نشابہ نے لکھا ہے: ۱۔ اللہ کی نگرانی اور اس کے خوف کا دوام ۲۔ سلف صالحین کے علم نافع کی حفاظت ۳۔ اپنے آپ اور اپنے اہل و عیال کو نقصان پہنچائے بغیر دنیا سے بے رغبتی اور دنیاوی سامان کا کم از کم استعمال ۴۔ شعائر اسلام اور ظواہر اسلام کی حفاظت جیسے (مساجد میں نماز کی ادائیگ) اور قول و فعل کے ذریعے شرعی مستحبات کا اہتمام جیسے تلاوت قرآن اور ذکر اللہ وغیرہ۔ ۵۔ لوگوں کے ساتھ مکارم اخلاق سے پیش آنا۔ ۶۔ ردی اخلاق سے اپنا ظاہر و باطن بچا کر رکھنا۔[2] نیت و ارادہ اخلاقی مسؤ لیت کی اساس ہے۔ لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَ اِنَّمَا لِکُلِّ امْرِیئٍ مَّا نَوٰی)) [3] ’’بے شک اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے اور ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق اجر ملتا ہے۔‘‘
[1] التراث التربوی الاسلامی تحقیق و تجمیع د/ ہشام نشابہ، دار العلم للملایین، ص: ۱۰۷۔ [2] التراث التربوی الاسلامی، تحقیق و تدوین، د/ہشام نشابہ، دار العلم للملائیین، ص: ۱۰۷۔ [3] مختصر صحیح مسلم، ص: ۲۸۲، حدیث: ۱۰۸۰۔