کتاب: اخلاق و آداب - صفحہ 377
انسان کے افعال کے وقت اس کے چہرے سے ظاہر ہوتا ہے۔ چنانچہ جب انسان کسی چیز کو پظسند کرتا ہے وہ اس کی قربت کے حصول کی کوشش کرتا ہے اور جب وہ کسی چیز سے نفرت کرتا ہے تو وہ اس سے دور بھاگتا ہے۔ تاہم شرعی پہلو سے انسانی جذبات و احساسات حق و فضیلت کی اتباع اعلیٰ اقدار کے قیام کے لیے اللہ تعالیٰ کے لیے محبت اور اللہ تعالیٰ کے لیے نفرت اور اس کے رسول کی محبت و نفرت کے تابع ہونے چاہئیں اور انسان کے ہر عمل کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہونا چاہیے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَo لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَ بِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَo﴾ (الانعام: ۱۶۲-۱۶۳) ’’کہہ دے بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں حکم ماننے والوں میں سب سے پہلا ہوں ۔‘‘ اسی لیے عقل ان پانچ مقاصد شریعت میں سے ایک ہے جن کے نقصان سے حفاظت کا شریعت نے حکم دیا ہے۔ جیسے شراب وغیرہ نیز علم و معرفت حق کے نور سے انہیں منور کرنے کا اہتمام بھی ضروری ہے تاکہ ہم ان لوگوں میں شامل ہو جائیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ یَرْفَعْ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ﴾ (المجادلۃ: ۱۱) ’’اللہ ان لوگوں کو درجوں میں بلند کرے گاجو تم میں سے ایمان لائے اور جنھیں علم دیا گیا۔‘‘[1] امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’علم وہ نہیں جو محفوظ کر لیا جائے علم وہ ہے جو نافع ہو۔‘‘
[1] الاخلاق و معیارہا بین الوضعیۃ و الدین، د/حمدی عبدالعال، ص: ۱۵۳-۱۶۰۔