کتاب: اخلاق و آداب - صفحہ 374
تعلقات سے وابستہ ہے کہ اس کی تمام صفات و افعال میں اسے یکتا مانا جائے حتیٰ کہ انسان کی عبادت کا مقصد اور غایت کمال الٰہی ہونا چاہیے اسی طرح ہم امن اور سعادت پا سکتے ہیں ۔[1] اسی لیے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت، صحیح و سالم آزادی کی حقیقی اساس کہلاتی ہے اور توحید ہی حق و عدل کے اختیار کرنے کے کمال ارادہ کی واحد محرک ہے۔ چنانچہ توحید الٰہی کے کمال کے سہارے ارادہ انسانی اتنا بلند اور پختہ ہو جاتا ہے کہ وہ مصالح شخصیہ اور خواہشات کو خاطر میں نہیں لاتا اور یہ درجہ صرف تقویٰ اور عمل صالح کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَ اتَّقُوْا اللّٰہَ ط وَ یُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ ط﴾ (البقرۃ: ۲۸۲) ’’اور اللہ سے ڈرو اور اللہ تمھیں سکھاتا ہے۔‘‘ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی تَقْوٰی مِنَ اللّٰہِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی شَفَاجُرُفٍ ہَارٍ فَانْہَارَ بِہٖ فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ﴾ (التوبۃ: ۱۰۹) ’’تو کیا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی خوشنودی پر رکھی، بہتر ہے، یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کھوکھلے تودے کے کنارے پر رکھی، جو گرنے والا تھا؟ پس وہ اسے لے کر جہنم کی آگ میں گر گیا۔‘‘ یہی تقوی ہی انسانی فضیلت کا حقیقی معیار ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ﴾ (الحجرات: ۱۳) ’’بے شک تم میں سب سے عزت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے۔‘‘ اللہ جل و علا کے ساتھ معاملہ کے چند اصول درج ذیل ہیں :
[1] الاخلاق و معیارہا بین الوضعیۃ والدین د/حمدی عبدالعال، ص: ۱۵۰۔