کتاب: اخلاق و آداب - صفحہ 371
النَّاسِ)) [1]
’’وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: بے شک ایک آدمی اچھا لباس اور اچھا جوتا پسند کرتا ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ خوب صورت ہے خوب صورتی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر سے مراد حق ٹھکرا دینا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((اَلْعِزُّ اِزَارِیْ وَ الْکِبْرِیَائُ رِدَائِیْ فَمَنْ نَازَعَنِیْ شَیْئًا مِنْہُمَا عَذَّبْتُہٗ))[2]
’’رب العزت فرماتا ہے: عزت میرا تہہ بند ہے اور بڑائی میری اوڑھنی ہے جو شخص ان دونوں میں سے کسی چیز کا جھگڑا کرے گا میں اسے عذاب دوں گا۔‘‘
اسی لیے اسلام نے اہل ایمان کے پہلو نرم کرنے کی ترغیب دلائی ہے اور حقیقی اہل ایمان کا وصف یہ بیان کیا ہے کہ اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں اور وہ اہل ایمان کے لیے نرم دل و نرم سلوک ہوتے ہیں اور کافروں کے سامنے سخت دل اور سخت رو ہو جاتے ہیں ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّہُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗٓ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ یُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌo﴾ (المائدۃ: ۵۴)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے تو اللہ عنقریب ایسے لوگ لائے گا کہ وہ ان سے محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت
[1] صحیح مسلم، کتاب الایمان۔ مسند احمد: ۴/۱۳۳۔
[2] مسند احمد، ص: ۲۴۸۔