کتاب: اخلاق و آداب - صفحہ 288
’’رحمت صرف بدبخت سے ہی چھینی جاتی ہے۔‘‘ ۵۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: ((اَلرَّاحِمُوْنَ یَرْحَمُہُمُ الرَّحْمٰنُ، اِرْحَمُوْا مِنَ الْاَرْضِ یَرْحَمْکُمْ مَنْ فِی السَّمَائِ)) [1] ’’رحم کرنے والوں پر رحمن بھی رحم کرتا ہے۔ تم اہل زمین پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔‘‘ اسی لیے مومن بھائیوں کے درمیان صلح کروانا صفت رحمت کا نتیجہ ہے جو اللہ کی رحمت کے حصول کا بڑا سبب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَo﴾ (الحجرات: ۱۰) ’’مومن توبھائی ہی ہیں ، پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ اور اللہ سے ڈرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کا اپنے رسول کے لیے بیان کردہ وصف کے مصداق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے لیے کس قدر رحیم و شفیق ہیں ، اس کا اندازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے بخوبی ہو سکتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متعلق فرمایا: ((اِنَّمَا اَنَا رَحْمَۃٌ مُہْدَأَۃٌ)) [2] ’’بے شک میں سلامتی سے بھرپور رحمت ہوں ۔‘‘ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو اس باپ کی طرح فرمایا ہے جیسے وہ اپنے بیٹے کے لیے ہوتا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِنَّمَا اَنَا لَکُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ لِوَلَدِہٖ))[3]
[1] مسند احمد: ۴/۱۷-۱۸۔ سنن ابی داود، کتاب الطب، حدیث: ۱۹۔ سنن ترمذی، کتاب البر: ۱۶۔ [2] مسند احمد: ۵/۲۵۰۔ صحیح مسلم، کتاب البر، باب النہی عن لعن الدواب، حدیث: ۸۷۔ [3] مسند احمد: ۲/۲۴۷۔ سنن ابی داود، کتاب الطہارۃ، حدیث: ۴۔ سنن نسائی، کتاب الطہارۃ، حدیث: ۳۵۔