کتاب: اخلاق و آداب - صفحہ 281
دیکھا اور جنت میں داخل نہ ہوا۔‘‘ سیدنا مقداد بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار فرمایا: ((اِنَّ اللّٰہَ یُوْصِیْکُمْ بِاُمَّہَاتِکُمْ (ثَلَاثًا) اِنَّ اللّٰہَ یُوْصِیْکُمْ بِآبَائِکُمْ، اِنَّ اللّٰہَ یُوْصِیْکُمْ بِالْاَقْرَبِ فَالْاَقْرَبِ)) [1] ’’بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری ماؤ ں کے بارے میں حکم دیتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے آباء کے بارے میں حکم دیتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے قرابت داروں کے بارے میں درجہ بدرجہ کے لحاظ سے حکم دیتا ہے۔‘‘ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے اپنے ان قرابت داروں کے بارے میں پوچھا جن سے وہ تو صلہ رحمی کرتا تھا لیکن اس کے رشتہ دار اس سے قطع رحمی کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَئِنْ کُنْتَ کَمَا قُلْتَ فَکَاَنَّمَا تَسْفَہَمُ الْمِلَّ وَ لَا یَزَالُ مَعَکَ مِنَ اللّٰہِ ظَہِیْرٌ عَلَیْہِمْ مَا دُمْتَ عَلٰی ذٰلِکَ)) [2] ’’اگر تیرا سلوک اسی طرح ہے جیسے تو کہتا ہے تو گویا تو ان کے منہ میں گرم راکھ ڈالتا ہے اور جب تک تو اپنے اس سلوک پر قائم رہے گا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے خلاف تیرے لیے ایک مددگار رہے گا۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اَحَبَّ اَنْ یُبْسَطَ لَہٗ فِیْ رِزْقِہٖ وَ یُنْسَاَ لَہٗ فِیْ اِثْرِہٖ فَلْیَصِلْ رَحِمَہٗ))[3] ’’جو چاہتا ہو کہ اپنے وسیع رزق دیا جائے تو اسے صلہ رحمی کرنی چاہیے۔‘‘
[1] مسند احمد: ۴/۱۲۲۔ سنن ابن ماجہ، کتاب الادب۔ [2] صحیح مسلم، کتاب البر، حدیث: ۲۲۔ مسند احمد: ۲/۴۱۲۔ [3] صحیح بخاری، کتاب الادب۔ صحیح مسلم، کتاب البر، باب صلۃ الرحم و تحریم قطیعتہا۔