کتاب: اخلاق و آداب - صفحہ 247
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْہِمْ وَ اَرْجُلُہُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ذٰلِکَ لَہُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌo﴾ (المائدۃ: ۳۳)
’’ان لوگوں کی جزا جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد کی کوشش کرتے ہیں ، یہی ہے کہ انھیں بری طرح قتل کیا جائے، یا انھیں بری طرح سولی دی جائے، یا ان کے ہاتھ اور پاؤ ں مختلف سمتوں سے بری طرح کاٹے جائیں ، یا انھیں اس سر زمین سے نکال دیا جائے۔ یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بہت بڑا عذاب ہے۔‘‘
ثواب و عقاب کے اسلامی اصول و مبادی:
اخلاقی تربیت کے میدان کے لیے اسلام نے جو مبادی و اصول ثواب و عقاب کے ضمن میں مقرر کیے ہیں وہ دو طرح کے ہیں ۔ جن دونوں کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ہی ہے:
(۱)… عقوبت کی مشروعیت (۲)… عقوبت میں تدریج
لیکن سب سے پہلے فضائل اعمال کی ترغیب دی جانا ضروری ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے شدید عذاب سے ڈرانا بھی ضروری ہے۔ گویا اسلام نے اخلاقی تربیت کے لیے ثواب و عقاب کی بنیاد تدرج پر رکھی ہے۔ اس طرح صحیح اسلامی اخلاقی تربیت ہوتی ہے۔ جن میں سے پہلی چیز ان اعمال کی ترغیب دی جاتی ہے جن کے سر انجام دینے سے ثواب ملتا ہے اور وہ سزا سے پہلے ہے۔
دوسری چیز بتدریج عقاب و عقوبت کی تنفیذ ہے۔ جس کی تفصیل ذیل میں تحریر کی جاتی ہے:
فضائل اعمال اور حسن خلق: [1]
[1] التربیۃ الاخلاقیۃ الاسلامیۃ، د/مقداد یالجن، ص: ۲۱۸، ط: ۱۳۹۷ہـ، ۱۹۷۷ء۔