کتاب: اخلاق نبوی کے سنہرے واقعات - صفحہ 352
محفوظ رہ سکیں۔ یاد رکھیے! مکہ کے کفار کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت، دیانت، صداقت میں قطعاً شک نہ تھا۔ ان کے کفر کا سبب خدانخواستہ یہ نہ تھا کہ وہ آپ کے اخلاق پر اعتراض کرتے تھے، در اصل وہ حق کے خلاف غرور و تکبر میں مبتلا تھے۔ انھیں یہ خطرہ تھا کہ اگر ہم نے اسلام قبول کر لیا تو ہماری سرداری ہمارے ہاتھوں سے جاسکتی ہے۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ نے سورہ الانعام آیت نمبر 33میں اس طرح بیان فرمایا ہے: ﴿قد نعلم إنہ لیحزنک الذی یقولون﴾’’یقینا ہم خوب جانتے ہیں کہ بے شک آپ کو وہ بات غمگین کرتی ہے جو وہ کہتے ہیں‘‘ ﴿فإنہم لا یکذبونک﴾ ’’بے شک وہ آپ کو نہیں جھٹلاتے‘‘ ﴿ولکن الظالمین بآیات اللّٰه یجحدون﴾ بلکہ در اصل یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔ مکہ کی فضا ہجرت سے پہلے قطعاً مسلمانوں کے حق میں نہ تھی۔ کفار مسلمانوں پر حد سے زیادہ ظلم کررہے تھے، مگر کیا ان حالات میں اخلاقی قدروں کو چھوڑ دیا گیا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان حالات میں بھی اپنی امت کو امانت داری کا سبق دیا اپنے مخالفین کو بتایا کہ مسلمان کا اخلاق اور کردار کیساہونا چاہیے۔ ذرا غور کیجیے! قریش کے سرداران اور منتخب افراد نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جان کا بھی ڈر ہے ان حالات میں بھلا کوئی سوچتا ہے کہ لوگوں کی اس کے پاس امانتیں پڑی ہوئی ہیں اوریہ ان کے مالکوں کو واپس کرنی ہیں؟ امانتیں رکھنے والے ان کے قتل کے ارادے سے گھر کے دروازے پر جمع ہیں مگر اس امین کے اعلیٰ اخلاق کو ملاحظہ کیجیے کہ آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرما رہے ہیں:علی!تم آج رات میرے بستر پر سو جاؤ اور اگلے چند روز میں اہل مکہ کی امانتیں واپس کرکے مدینہ آجانا! چنانچہ سیدنا علی بن ابی طالب اگلے چند دنوں میں جہاں ہجرت کی تیاری کرتے ہیں وہاں لوگوں کی امانتیں واپس کرکے مدینہ منورہ کا رخ کرتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ابھی تک قباء ہی میں مقیم ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بخیریت آپ کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ قارئین کرام! اسے اخلاق کی بلندی کہتے ہیں کہ جن کٹھن حالات میں انسان کو اپنے آپ کا ہوش نہیں ہوتا ان حالات میں بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی امانتیں واپس کرنے کی فکر دامن گیر تھی۔، ، الہجرۃ في القرآن الکریم، ص:364، نقلا عن سیرۃ النبي صلي اللّٰه عليه وسلم للدکتور علي محمد الصلابي۔