کتاب: ائمہ اربعہ کا دفاع اور سنت کی اتباع - صفحہ 90
ارباب بنایا ہے، اور اللہ کو چھوڑ دیا ہے، کیونکہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’’ لم یعبدوھم ولکن أحلوا لھم الحرام فاتبعوھم وحرموا علیھم الحلال فاتبعوھم‘‘[1] (یعنی اہل کتاب نے اپنے علماء کی پرستش نہیں کیا، لیکن ان علماء نے ان کے لئے حرام کو حلال کیا تو ان کی اتباع کی، اور حلال کو حرام قرار دیا تو اس میں بھی ان کی پیروی کی ) یہ طریقہ اللہ کی معصیت اور مخلوق کی طاعت کی طرف لے جانے والا ہے نیز برے انجام اور اللہ تعالی کے اس قول کے مفہوم کی بری تاویل کرنے کا باعث ہے ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔ ﴿ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا﴾ [2] (مسلمانو! اللہ کا حکم مانو اور اس کے رسول کا حکم مانو، اور حکومت والوں کا جو تم میں سے ہوں ، اگر کسی بات میں تمہارا آپس میں جھگڑا ہو جائے تو اس میں اللہ اور رسول کی طرف رجوع کرو ، اگر تم اللہ پر اور پچھلے دن پر ایمان رکھتے ہو ، یہی بہتر ہے، اور اس کا انجام بہت اچھا ہے)۔ ایسا بہت ہوتا ہے کہ مسائل میں علماء اختلاف کیا کرتے ہیں ، اگر ہر وہ حدیث جس میں تغلیظ وتشدید وارد ہے کوئی مخالف اس کے خلاف کرے تو اس میں وارد تشدید کو ترک یا اس پر عمل مطلقا چھوڑنا پڑے گا، اور اس خطرناک امر سے بہت بڑا خوفناک انجام یعنی کفر اور دین سے خروج کا وصف لازم آئے گا، اگر یہ خطرناک پہلو ما قبل سے زیادہ بڑا نہ ہو تو خود کسی طرح اس سے کم تر نہیں ہے، پس ضروری ہوا کہ مکمل کتاب پر ایمان لائیں اور جو کچھ اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے ان تمام کی اتباع کریں ، ایسا نہ کریں کہ بعض کتاب پر ٹھیک سے ایمان لائیں ، اور بعض کتاب کے کافر ومنکر ہوجائیں ۔ [1] تفسیر ابن کثیر ۲ / ۳۴۸۔ [2] النساء : ۵۹۔