کتاب: ائمہ اربعہ کا دفاع اور سنت کی اتباع - صفحہ 65
ان کو پاک کرے گا، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، ایک وہ شخص جس کے پاس راستے میں فاضل پانی ہے، اور مسافر کو اس کے استعمال سے روکتا ہے، اللہ تعالی اس سے فرمائے گا آج میں اپنا فضل تم سے روک رکھوں گا ، جس طرح تم نے اس چیز پر روک لگائی تھی جو تمہاری کمائی کی نہیں تھی ، دوسرا وہ شخص جس نے امام (خلیفہ) سے صرف دنیاوی مفاد کے لئے بیعت کیا، اگر امام اس کو عطیہ دے تو خوش رہے ورنہ ناراض ہو جائے، تیسرا وہ شخص جس نے سامان تجارت فروخت کرنے کے لئے عصر کے بعد جھوٹی قسم کھائی کہ اس کو سامان کی جو قیمت دی جارہی ہے، اس سے زیادہ قیمت دینے کی پیش کش کی جاچکی ہے) اس حدیث میں اپنی ضرورت سے زائد پانی روکنے اور ضرورت مند کو نہ دینے والے کے حق میں بہت بڑی وعید ہے، اس کے باوجود علماء کی ایک جماعت نے زائد پانی روک رکھنے کو جائز ٹھہرایا ہے، پس مذکورہ مسائل میں یہ اختلاف ان امور کی تحریم کا اعتقاد رکھنے سے مانع نہیں ہے، بالخصوص ایسی حالت میں کہ وہ حدیثیں ثابت اور ان سے استدلال مسلم ہے، اور نہ حدیث کا آنا ہمیں اس اعتقاد سے مانع ہے کہ اس میں تاویل کی راہ پر چلنے والا معذور ہے، اور یہ وعید اس کے حال کو لاحق نہیں ہوتی ہے۔ حلالہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ لعنَ اللَّهُ المحلِّلَ والمحلَّلَ لَهُ ‘‘[1] (یعنی حلالہ کرنے کرانے والے پر اللہ نے لعنت فرمائی ہے) یہ حدیث صحیح ہے ، اور متعدد طرق سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب سے مروی ہے ، اس کے باوجود علماء کی ایک جماعت نے نکاح حلالہ کو مطلقا درست قرار دیا ہے، اور بعض علماء نے اس کو صحیح بنانے کے لئے کہا ہے کہ عقد نکاح میں تحلیل کی شرط نہ ہو، اس باب میں ان لوگوں کے عذر وبہانے معروف ہیں ، اس لئے کہ پہلے گروہ کے نزدیک قیاس اصول یہ ہے کہ شروط کی وجہ سے نکاح باطل نہیں ہوتا ہے، جیسا کہ عوضین میں سے ایک کے مجہول [1] احمد : ۱ / ۴۴۸، ۴۸۲، ۴۸۷، ابو داود ، نکاح : ۲۰۷۶، ترمذی نکاح : ۱۱۲۸، ۱۱۲۹، نسائی ۶ / ۱۴۹ (۳۴۱۶) ، ابن ماجہ ۱ / ۶۲۲ ۔ صحیح ۔