کتاب: ائمہ اربعہ کا دفاع اور سنت کی اتباع - صفحہ 25
یہ شکار ان کی رائے سے کیا گیا تھا، انہوں نے اس کو کھانا چاہا ، حضرت علی بن طالب نے ان کو بتایا کہ لوگوں نے اس طرح کا گوشت آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بطو ہدیہ بھیجا تھا، آپ نے اسے واپس کر دیا تھا، پس حضرت عثمان اس کو تناول کرنے سے باز رہے، کما فی الرفع۔ اسی طرح حضرت عثمان کو اقل مدت حمل معلوم نہیں تھی ، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت کریمہ ﴿وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾[1] (اور اس کا حمل اور دودھ چھٹنا تیس مہینوں میں ہے) کو آیت کریمہ ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ﴾ [2] (اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں ) کے ساتھ پڑھ کر انہیں یاد دلایا، پس انہوں نے اس کی طرف رجوع کرلیا، جیسا کہ اعلام اور جُنّہ میں مذکور ہے۔ حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ یہ چوتھے خلیفہ ہیں جو علم ودانش میں متبحر تھے، دنیا نے ان کے جیسا بلند پایہ دانا شخص نہیں دیکھا ہے، لیکن اس کے باوجود حدیث ’’ نحنُ معشرَ الأنبياءِ لا نورَثُ ما ترَكناهُ فهو صدقةٌ ‘‘[3] (ہم انبیاء کی جماعت ہیں ، ہم کسی کے وارث نہیں ہوتے ہیں اور نہ ہمارے مال کا کوئی وارث ہوتا ہے، ہمارا ترکہ صدقہ کر دیا جاتا ہے)۔ ایسے ہی حدیث : ’’ لا تعذبُوا بعذابِ اللّٰهِ ‘‘[4] (تم کسی کو آگ میں جلانے کی سزا نہ دو، آگ کی سزا دینا صرف اللہ کا حق ہے) حضرت علی کے ذہن میں محفوظ نہیں تھی، جیسا کہ قسطلانی نے اس کو ارشاد الساری میں ذکر کیا ہے ۔ حضرت علی کی غیر یاد داشتہ حدیثوں میں حاملہ متوفی عنہا زوجہا کی حدیث ہے، جیسا کہ رفع الملام، توضیح، ایقاف، اور لمعات التنقیح میں مرقوم ہے۔ ایک دوسری حدیث مفوضہ عورت کے مہر کے بارے میں ہے جو ان کے حافظہ میں
[1] الاحقاف : ۱۵۔ [2] البقرۃ: ۲۳۳۔ [3] بخاری ، الخمس، ۳۰۹۴ ، مسلم ، جہاد : ۱۷۵۸ ، ۱۷۵۹۔ [4] بخاری ، استتابۃ المرتدین: ۶۹۲۲، ابوداود ، حدود : ۴۳۵۱۔