کتاب: ائمہ اربعہ کا دفاع اور سنت کی اتباع - صفحہ 23
کرتے رہے، جب انہیں معلوم ہوا کہ جناب رسول الہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے تو اپنی بات ترک کردی ، اور حج تمتع کا حکم صادر فرمایا۔ انبیاء علیہم السلام کے ناموں پر نام رکھنے کا جواز انہیں معلوم نہیں تھا، اس لئے اس سے منع کردیا تھا، حضرت طلحہ نے ان کو بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کنیت ابو محمد رکھی ہے، پس منع کرنے سے باز آگئے ، اور پھر کبھی اس پر نکیر نہیں کی ۔ اسی طرح ان پر اللہ تعالی کا قول ﴿ إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ﴾ [1] (بیشک آپ کو مرنا ہے اور ان لوگوں کو بھی مرنا ہے) اور ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ۔۔ الآیۃ﴾ [2] (محمد صرف رسول ہیں ) مخفی رہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سانحۂ ارتحال پر حضرت عمر کا حال یہ رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لفظ میت کے اطلاق کا بھی انکار کرتے تھے، اس وقت صدیق امت (حضرت ابوبکر) نے ان کو مذکورہ آیتیں یاد دلائیں ، تو کہنے لگے اللہ کی قسم لگتا ہے کہ اس وقت سے پہلے کبھی میں نے ان آیتوں کو سناہی نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج وبنات کے نکاحوں کی مہروں سے زیادہ مہر مقرر کرنے کا حکم حضرت عمر سے پوشیدہ رہا ، یہاں تک کہ ایک عورت نے ان کو اللہ تعالی کا قول ﴿وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنطَارًا﴾[3] ( ان عورتوں میں سے ایک کو تم نے خزانہ دیا ہے) یاد دلایا ، تو فرمایا: ہر ایک شخص عمر سے زیادہ سمجھ دار ہے، یہاں تک کہ عورتیں بھی ۔ اسی طرح جد ( دادا) اور کلالہ ( جس کے والد اور ولد نہ ہو) اور بعض اقسام ربا کے احکام ان سے مخفی رہے، وہ تمنا کرتے تھے کہ کاش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان مسائل کے بارے میں وصیت فرمائے ہوتے۔ حضرت عمر کو یہ بات بھی معلوم نہیں رہی کہ حدیبیہ کی سال اللہ تعالی نے اپنے رسول سے وعدہ فرمایا تھا کہ مکہ مکرمہ میں ضرور داخل ہوگے، اس وعدہ میں کسی خاص سال کی تعیین نہیں تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بیان فرمایا ہے۔
[1] الزمر : ۳۰۔ [2] آل عمران : ۱۴۴۔ [3] النساء : ۲۰ ۔