کتاب: ائمہ اربعہ کا دفاع اور سنت کی اتباع - صفحہ 22
حدیث تطیب قبل احرام ۔ یعنی حج یا عمرہ کے احرام سے پہلے خوشبو استعمال کرنے کے بارے میں حدیث سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ناواقف تھے۔ حدیث توقیت مسح برخفین - موزے پہننے والے کو حضرت عمر حکم کرتے تھے کہ ان موزوں پر اس وقت تک مسح کرے جب تک ان کو پاؤں سے نہ نکالے، اس مسح کے لئے کوئی خاص مدت معین نہیں ہے، سلف کی ایک جماعت نے اس امر میں ان کی پیروی کی ہے، حالانکہ متعدد صحیح حدیثیں اس باب میں وارد ہوئی ہیں ، جو انہیں نہیں پہنچی ہیں ، کذا فی الرفع، (ان حدیثوں میں صراحت ہے کہ موزوں پر مسح مقیم کے لئے ایک دن ورات تک اور مسافر کے لئے تین دنوں وراتوں تک جائز ہے)۔ ایسے ہی حج میں طواف سے قبل رمی جمار کی حدیث کا حال ہے، جیسا کہ ایقاف میں ذکر کیا ہے۔ یہ حدیث کہ حائض عورت کا طواف وداع کئے بغیر مکہ مکرمہ سے رخصت ہونا جائز ہے، اس سے حضرت عمر بے خبر تھے، جیسا کہ شرح مسلم للنووی اور اعلام میں ہے، اسی طرح یہ حدیث بھی ان سے مخفی رہی کہ مکہ میں مقیم شخص کو ترویہ (آٹھویں ذی الحجہ ) کے دن احرام باندھنا ہے۔ حدیث ھبوب ریح - تیز ہوا اور آندھی چلنے کے وقت سنت کیا ہے؟ اس سے حضرت ابو ہریرہ نے ان کو واقف کرایا ، جیسا کہ رفع الملام اور ایقاف میں مکتوب ہے۔ حدیث : ’’أمرت أن أقاتل الناس‘‘ الی آخرہ۔ حضرت عمر سے مخفی رہی ، جیسا کہ امام نووی نے شرح مسلم میں اور علامہ قسطلانی نے ارشاد الساری میں اس کو ذکر کیا ہے۔ حافظ ابن قیم نے اعلام میں کہا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر املاص زن کا حکم مخفی رہا ، (حاملہ عورت کے پیٹ پر مارنے سے بچہ ساقط ہوجائے تو سنت رسول کیا کہتی ہے ؟ ) اس کے بارے میں حضرت عمر نے لوگوں سے سوال کیا، مغیرہ بن شعبہ نے ان کو حدیث سے آگاہ کیا۔ اسی طرح حج تمتع کی شان سے حضرت عمر ناواقف رہے، اور لوگوں کو اس سے منع