کتاب: ائمہ اربعہ کا دفاع اور سنت کی اتباع - صفحہ 21
ایک اور حدیث جو مجوس سے جزیہ لینے کے بارے میں ہے، اسے بھی حضرت عمر نہیں جانتے تھے ، یہاں تک کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف نے ان کو اس حدیث کی خبر دی ، جیسا کہ موطا اور اس کی شرح زرقانی، اعلام اور حجۃ اللہ البالغۃ میں مذکور ہے، ایسے ہی یہ حدیث کہ شوہر کی دیت میں بیوی کو حق وراثت حاصل ہے، حضرت عمر اس سے لاعلم رہے اور کہتے تھے کہ دیت کے وارث اس شوہر کے اولیاء ہیں ، جب ضحاک بن سفیان کلابی بدوی نے ان کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا کہ اَشیَمْ ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں سے وراثت دی جائے ، یہ معلوم ہوتے ہی حضرت عمر اپنی رائے چھوڑ کر حدیث کی طرف پلٹ گئے، اور کہا : اگر میں یہ حدیث نہیں سنا ہوتا تو اس کے خلاف حکم کرتا، جیسا کہ سنن ابی داود، رفع الملام، اعلام، مسلّم، غایۃ التحقیق اور ایقاف میں مذکور ہے۔ ایک دوسری حدیث جس کا تعلق طاعون والی سرزمین میں آنے جانے سے ہے، ایک مرتبہ حضرت عمر مقام ’’سرغ‘‘ ( سرغ ، وادی تبوک کی ایک بستی کا نام ہے جو شام کے راستے میں واقع ہے، بعض لوگوں کا قول ہے کہ مدینہ منورہ سے تیرہ مرحلے پر واقع ہے) میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ شام میں طاعون کی بیماری ہے ، آپ نے اپنے ہم سفر مہاجرین اولین سے مشورہ کیا ، پھر انصار سے مشورہ کیا، پھر فتح مکہ والے صحابہ سے دریافت کیا، ہر ایک نے اپنی رائے کا اظہار کیا ، مگر کسی نے سنت رسالت کے حوالے سے کوئی خبر نہیں بتائی ، یہاں تک کہ عبد الرحمن بن عوف نے اس بارے میں حدیث نبوت سے ان کو آگاہ کیا ، جیسا کہ صحیحین، رفع الملام، اعلام ، حجۃ اللہ البالغۃ اور ایقاف میں مرقوم ہے۔ یہ قصہ اس بات پر دلیل ہے کہ جماعت مہاجرین وانصار اور اہل الفتح جو اس سفر میں حضرت عمر کے ہم راہ تھے ، ان تمام لوگوں سے یہ حدیث اوجھل ہوگئی تھی ۔ حدیث تیمم - حضرت عمر کہتے تھے کہ اگر ایک ماہ تک پانی نہ ملے تو نماز نہیں پڑھیں گے ، جب تک کہ غسل نہ کرلیں ، عمار بن یاسر نے اس باب میں وارد حدیث سے ان کو آگاہ کیا کہ ان کا قول خلاف سنت ہے ، جیسا کہ یہ حدیث صحیحین، سنن ابی داود اور اعلام میں مذکور ہے ۔