کتاب: ائمہ اربعہ کا دفاع اور سنت کی اتباع - صفحہ 20
فرماتے تھے: ’’ دَخَلْتُ أَنا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، وَخَرَجْتُ أَنا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، ذَهَبتُ أَنا وأبو بَكْرٍ وعمرُ ، وجِئْتُ أَنا وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ‘‘ (میں اور ابوبکر وعمر اندر گئے، میں اور ابو بکر وعمر باہر نکلے، میں اور ابوبکر وعمرگئے اور آئے )۔ اس بلندی مرتبہ کے باوجود جب لوگوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے جدہ (دادی ) کی میراث کے بارے میں دریافت کیا تو کہا تمہارے لئے اللہ کی کتاب میں کچھ نہیں ہے، اور سنت میں بھی مجھے معلوم نہیں ہے، لیکن لوگوں سے دریافت کروں گا، جب دریافت کیا تو مغیرہ بن شعبہ اور محمد بن مسلمہ نے گواہی دی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جدہ کو سدس(2/1) حصہ دیا ہے، یہ حدیث عمران بن حصین کو بھی پہنچی ہے ، حالانکہ یہ تینوں صحابہ ان دو بزرگ وار ( ابو بکر وعمر ) اور دوسرے خلفاء نامدار کے مرتبہ تک پہنچنے سے قاصر ہیں ، لیکن حدیث مذکور کے علم میں ان تینوں کو اختصاص حاصل ہے، اور اس حدیث پر امت نے بالاتفاق عمل کیا ہے، کذا فی رفع الملام واعلام الموقعین والحجۃ البالغۃ والایقاف ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی طرح دیت جنین کی حدیث حضرت عمر رضی اللہ کو معلوم نہیں تھی ، مغیرہ بن شعبہ نے ان کو اس سے خبردار کیا تھا، جیسا کہ سنن ابی داود ، مسند دارمی، ارشاد الساری ، حجۃ اللہ البالغۃ اور دراسات اللبیب میں مذکور ہے، یہی حال دیت اصابع ( انگلیوں کی دیت) کی حدیث سے ناواقفیت کا تھا، حضرت عمر بعض انگلیوں کی دیت زیادہ اور بعض کی کم مقرر کیا کرتے تھے ، چنانچہ انہوں نے انگوٹھے اور اس سے متصل انگلی کی دیت پچیس اونٹ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، لوگوں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام انگلیوں کے درمیان برابری کا حکم دیا ہے، ( یعنی ہر چھوٹی بڑی انگلی کی دیت دس دس اونٹ ہیں ) یہ سنتے ہی حضرت عمر نے اپنے قول کو چھوڑ کر حدیث کی طرف رجوع کر لیا، جیسا کہ اعلام، مسلم الثبوت ، دراسات اور ایقاف میں مذکور ہے ۔