کتاب: ائمہ اربعہ کا دفاع اور سنت کی اتباع - صفحہ 111
النبی نختار من قولھم، واذا جاء عن التابعین زاحمناھم‘‘[1] ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سر آنکھوں پر ، صحابہ کرام کا مختار قول ہم قبول کریں گے ، اور تابعین کے قول پر بحث ومناقشہ کریں گے۔) یہ قول اس بات کا فائدہ دے رہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول بے چوں وچرا لائق اخذ وقبول ہے، اور صحابی کا ہر وہ قول اختیار کرنے کے لائق ہے جو دلیل کے موافق ہو، علی الاطلاق ہر قول نہیں لیا جائے گا ، جیسا کہ من تبعیضیہ اس پر دلالت کررہی ہے، رہا تابعین کے اقوال سے مزاحمت ومناقشہ کا مسئلہ تو اس کا سبب معاصرت ہے، جیسا کہ بعض لوگ امام صاحب کو تابعین میں شمار کرتے ہیں ، اور معاصر کو معاصر کی تقلید واجب نہیں ہے، یہ بات ظاہر ہے کہ ایک زمانے کے لوگ اکثر عقل وفہم اور ذہن ودماغ میں ایک دوسرے کے قریب قریب ہوتے ہیں ، اور دلیلوں کے غیر مدلول میں ہر مجتہد اپنے اجتہاد کے مطابق عمل کرسکتا ہے، کیونکہ اس کا اجتہاد اس کے حق میں اس مسئلہ پر دلیل ہے، جس میں اس نے اپنی پوری محنت کرکے کوئی حکم نکالا ہے، لیکن اس کا اجتہاد دوسرے کے لئے خواہ عالم ہو یا عامی، واجب الاعتقاد ، حتمی العمل اور ضروری الاخذ نہیں ہے، اگر ایسا ہے تو اس کے وجود کی دلیل پیش کرنے کی مہربانی کرنی چاہئے۔ اگر امام ہمام من جملہ تابعین نہیں ہیں جیسا کہ جمہور علماء کامشہور قول ہے ، تو امام صاحب کی تابعین کے ساتھ مزاحمت اس بات پر سب سے بڑی دلیل ہے کہ ان کے نزدیک متقدم کی تقلید شرع میں کوئی چیز ہی نہیں ہے، اگرچہ مقلَّد (بالفتح) اس مقلِّد (بالکسر) پر زمان اور رتبہ میں تقدم رکھتا ہو، یہ تو مسلک اہل اتباع کے ساتھ امام صاحب کی عین موافقت ہے، اس طرح کہ متبعین کے نزدیک حجت صرف اللہ کے قول اور رسول کے قول میں منحصر ہے، موقوف اور مقطوع روایت میں حجت نہیں ہوتی ہے، خاص کر اس حالت میں کہ وہ اصول کے مخالف یا ان سے متصادم ہو، وللہ الحمد۔ [1] مصدر سابق ص ۷۰ ۔