کتاب: اہل تصوف کی کارستانیاں - صفحہ 43
دوسرا باب اہل تصوف سے کس طرح بحث کی جائے؟ پچھلے باب میں ہم صوفیانہ افکار کی خطرناکیوں کا ذکر کرچکے ہیں۔اب جو شخص بھی ان باتوں سے واقف ہوجائے اس پر ضروری ہے کہ اسلامی سماج سے اس خبیث درخت کی جڑ اکھاڑنے کی کوشش کرے۔لیکن یہ کام نہیں ہوسکتا جب تک اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف دعوتِ برحق نہ دی جائے۔اور ہدایت و پاکیزگی کے پردے میں ہر قسم کے کفر وزندقہ کو چھپانے والے اس قابل نفرت تصوف کو سرعام رسوا نہ کیا جائے۔اس لئے ضروری ہے کہ جس شخص کو حق معلوم ہوجائے وہ اسے پھیلانے اور عام کرنے کی کوشش کرے۔اور اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ جس شخص کو اس شر کا علم ہوجائے وہ اس کے درخت کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش کرے۔ ٭ اور چونکہ بیشتر طالب علم تصوف کی حقیقت کو نہیں جانتے،اور اس کی کفریات،اکاذیب،اباطیل اور لاف و گزاف سے واقفیت نہیں رکھتے اس لئے صوفیوں سے بحث کرتے ہوئے بہترین جواب نہیں دے پاتے۔اور نہ انہیں حق پر قانع کرپاتے ہیں۔کیوں کہ صوفی جب ایسے آدمی کو دیکھتا ہے جو کتاب و سنت اور دلیل کی عظمت کا قائل ہو تو جھٹ کہتا ہے کہ جنید نے جو کہ شیخ الطائفہ تھے فرمایا ہے کہ ہمارا طریقہ کتاب وسنت کا پابند ہے۔اور جو کتاب و سنت کو نہ سمجھے وہ اس گروہ کے طریقے کو بھی نہیں سمجھ سکتا۔اور فلاں نے یہ کہا ہے۔اور فلاں نے وہ کہا ہے۔اور یہ بھی فرمایا ہے کہ میرے دل میں اس گروہ کا کوئی نکتہ جاگزیں ہوتا تو میں اسے بیان نہیں کرتا جب تک کہ میں اس کے لئے کتاب و سنت سے دو شاہد نہ پاجاؤں۔