کتاب: اہل تصوف کی کارستانیاں - صفحہ 37
نقصان دہ نہیں۔کیوں کہ یہ لوگ(متکلمین)لوگوں کے عقائد کو عقلی شبہات کا وہم لاکر فاسد کرتے ہیں۔اور وہ لوگ(اہل تصوف)لوگوں کے اعمال خراب کرتے،دین کے قوانین کوڈھاتے،بیکاری کو پسند کرتے اور گانے وغیرہ سننے سے دلچسپی رکھتے ہیں۔حالانکہ سلف ایسے نہیں تھے۔بلکہ عقائد کے باب میں بندہ تسلیم ورضا تھے۔اور دوسرے ابواب میں حقیقت پسند و جفاکش۔ وہ کہتے ہیں:اپنے بھائیوں کو میری نصیحت یہ ہے کہ ان کے دلوں کے افکار میں متکلمین کی بات نہیں پڑنی چاہیئے،اور ان کا کان صوفیوں کی خرافات کی طرف نہیں لگنا چاہیئے۔بلکہ معاش کے کام میں مشغول ہونا صوفیوں کی بیکاری سے بہتر ہے۔اور ظواہر پر ٹھہرے رہنا نام نہاد دین پسندوں کی وقت پسندی سے افضل ہے میں نے دونوں گروہوں کے طریقے آزمالئے ہیں،ان لوگوں کا منتہاء کمال شک ہے،اور ان لوگوں کا منتہاء کمال شطح ہے۔[1] پھر یہ برا اور رسوا کن حال جس کو ابن عقیل نے بیان کیا ہے اور ابن جوزی نے نقل کیا ہے یہ برابر قائم رہا بلکہ اس کے بعد جو صدیاں آئیں وہ مزید جہل وتاریکی کی صدیاں تھیں۔کیوں کہ ان صدیوں میں اہل تصوف نے اسلامی سرزمین میں خوب خوب بگاڑ اور خرابی مچائی،اور اسے دین اور اسلام کے نام پر فسق و فجور سے بھردیا۔اور صرف عقل اور عقیدے ہی کو بگاڑنے پر اکتفا نہیں کیا،بلکہ اخلاق و آداب کو بھی تباہ وبرباد کیا۔ چنانچہ یہ عبدالوہاب شعرانی ہے جس نے اپنی کتاب”الطبقات الکبریٰ‘‘میں صوفیوں کی ساری بدکاریوں،خرافات اور دہریت کو جمع کیا ہے۔اور سارے پاگلوں،مجذوبوں،لونڈے بازوں اور ہم جنسی کے خوگروں،بلکہ سرِ [1] (تلبیس ابلیس ص 375-374)