کتاب: اہل تصوف کی کارستانیاں - صفحہ 32
کے کپڑوں کو آپس میں بانٹ لیں۔یہ لوگ اس مستی کو وجد کہتے ہیں،اور دعوت کو وقت کہتے ہیں،اور لوگوں کو کپڑے بانٹنے کو حکم کہتے ہیں۔اور جس گھر میں ان کی دعوت کی گئی ہو وہاں سے اسی وقت نکلتے ہیں جب کہ ایک دوسری دعوت کو لازم کرلیں۔وہ کہتے ہیں کہ یہ دعوت واجب ہوگئی۔حالانکہ ان باتوں کا عقیدہ رکھنا کفر،اور انہیں کرنا فسق ہے۔ ان کا یہ عقیدہ ہے کہ سارنگی بجاکر گاناگانا عبادت ہے۔ہم نے ان سے سنا ہے حدی خوانی اور محمل کی آمد کے وقت دعا قبول ہوتی ہے۔کیوں کہ ان کا عقیدہ ہے کہ یہ بھی عبادت ہے۔حالانکہ یہ بھی کفر ہے۔کیوں کہ جو شخص مکروہ اور حرام کام کو عبادت سمجھے وہ اپنے اس عقیدے کی وجہ سے کافر ہوگیا۔جب کہ باقی لوگوں کے لئے وہ کام صرف حرام یا مکروہ ہی رہا۔ اور اہل تصوف اپنے آپ کو اپنے شیخ(پیر)کے حوالہ کرتے ہیں۔پس اگر ان کے شیخ کے درجہ و مقام کی بات آتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ شیخ پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔پھر اس شیخ کی رسی کھلنے اور شطحیات نامی کفر و ضلالت والے اقوال کے دھاگے میں منسلک ہونے اور فسق و فجور کے معلوم و معروف کاموں میں ملوث ہونے کا حال نہ پوچھو۔اگر وہ شیخ کسی خوبرو لونڈے کو بوسہ لیتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ رحمت ہے۔اگر کسی اجنبی عورت کے تنہائی میں اکٹھا ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے وہ اس کی بیٹی ہے،اور اس نے خرقہ پہن رکھا ہے۔اور وہ کوئی اور کپڑا اس کے مالک کی رضامندی کے بغیر دوسروں پر تقسیم کرتا ہے تو کہا جاتا ہے خرقہ کا فیصلہ ہے۔ابن عقیل کہتے ہیں کہ:حالانکہ مسلمانوں کا کوئی شیخ ایسا نہیں جس کو اس کے حال پر چھوڑا جاسکے اور اس کے احوال تسلیم کئے جاسکیں۔کیوں کہ یہاں کوئی شیخ ایسا نہیں جو دائرہ تکلیف میں نہ ہو۔پھر پاگلوں اور بچوں کے ہاتھ پر مارا جاتا ہے۔