کتاب: اہل سنت فکر و تحریک - صفحہ 99
یہ ہیں اہم اقوال ’’جماعت‘‘ کے مفہوم کے بارے میں جس کے لزوم کا احادیث میں حکم وارد ہوا ہے۔ ماحصل یہ ہے کہ جماعت کے مفہوم کے دو پہلو ہیں: ایک تو یہ ہے کہ جماعت ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو ایک امام(خلیفہ)پر شریعت کے تقاضوں کے مطابق مجتمع ہوتے ہیں، چنانچہ اس ’’جماعت‘‘ کا لزوم واجب ہے اور اس سے خروج حرام ہے۔ دوسرا یہ کہ جماعت وہ ہے جس پر اہل سنت، اتباع اور ترک بدعات کی صورت میں چلتے ہیں، بالفاظ دیگر ’’جماعت‘‘ مذہب حق کا نام ہے۔ جماعت کی یہ تفسیر کہ اس سے مراد صحابہ رضی اللہ عنہم ہیں یا اہل علم یا اہل اجماع ہیں یا یہ کہ سواد اعظم ہیں، یہ سبھی کچھ ایک معنی کی طرف لوٹتا ہے اور وہ یہ کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اس راستے پر چلنے والے ہوں جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے۔ خواہ کم ہوں یا زیادہ، اور امت کے احوال یا زمان و مکان کا کتنا بھی فرق کیوں نہ ہو، اسی لئے عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: ’’جماعت‘‘ وہ ہے جو حق کی موافقت پر جو چاہے تم اکیلے ہی کیوں نہ ہو [1]ایک دوسری روایت کے الفاظ میں ان کا قول یوں ہے: ’’جماعت‘‘ اللہ کی اطاعت کی موافقت ہی میں ہوتی ہے چاہے تم اکیلے ہی کیوں نہ ہو۔ [2] (3)اہل الحدیث عربی زبان میں لفظ حدیث قدیم کی ضد ہے۔ اصطلاح میں حدیث ہر اس بات کو بولتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو چاہے وہ کوئی قول یا فعل ہو یا تقریر اور تخلیقی [1] الحوادث والبدع لابي شامه ص 223ابو شامہ کے بقول بیہقی نے یہ قول کتاب مدخل میں ذکر کیا ہے۔ [2] لالكائي، شرح السنة 1/108-109۔