کتاب: اہل سنت فکر و تحریک - صفحہ 303
تک آدمی اس کی اصل حقیقت حال نہ جان لے اس وقت تک ان کے پیچھے نماز جائز نہیں، بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد سے لے کر اب تک مسلمان مستور الحال کے پیچھے نماز ادا کرتے آئے ہیں۔۔ تاہم جب ایک بدعتی یا فاجر شخص کے پیچھے نماز ادا کرنے کے علاوہ اور کہیں ممکن نہ ہو مثلاً امام جمعہ بدعتی یا فاجر ہو اور وہاں کہیں دوسرا جمعہ نہ ہوتا ہو تو ایسی صورت میں عام اہل سنت و الجماعت کے ہاں اس بدعتی یا فاجر شخص کے پیچھے نماز ادا کی جائے گی۔ تاہم جب اھواء و شہوات کی بھرمار ہوئی تو بعض حضرات بطور استحباب کسی شخص کے بارے میں جان کے ہی اس کے پیچھے نماز ادا کرنا پسند کرتے تھے، جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ کے بارے منقول ہے کہ انہوں نے ایک سائل کو یہ بات کہی تاہم انہوں نے یہ نہیں کہا کہ جب تک کسی کا حال معلوم نہ ہو جائے تب تک اس کے پیچھے نماز جائز نہیں۔ جب امام ابو عمرو عثمان بن مرزوق رحمہ اللہ مصر میں تشریف لے گئے اس وقت مصر کے بادشاہ شیعیت کے علمبردار تھے، اور باطنی ملحد بھی تھے، اسی وجہ سے مصر میں بدعات اور اس طرح کی منکرات کی بھرمار ہو گئی تھی اور خوب پھل پھول گئی تھیں، تو انہوں نے اس وجہ سے اپنے تلامذہ اور عقیدت مندوں کو کہا تھا کہ جب تک کسی کے بارے میں جان نہ لیں اس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ پھر امام صاحب کی وفات کے بعد صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ ایسے سنی بادشاہوں نے مصر فتح کیا تو وہاں رافضیت ختم اور اہل سنت کی دعوت دوبارہ غالب و ظاہر ہوئی، علم دین اور مذہب سنت کی ترویج اور بہتات ہوئی اور اسی کو غلبہ نصیب ہوا، چنانچہ ایک مستور الحال[1] کی اقتداء میں نماز کے جواز پر جملہ مسلمان ائمہ کا اتفاق ہے اور جو شخص یہ [1] مستور الحال وہ شخص ہوتا ہے جس کے عقیدہ و عمل کے بارے میں انسان واقفیت نہ رکھتا ہو۔ مترجم