کتاب: اہل سنت فکر و تحریک - صفحہ 29
اللہ رب العزت نے فرشتوں کو انسان کی تخلیق کا مقصد ان الفاظ میں بتایا ہے۔ ﴿وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ﴾(البقرۃ: 30) ’’اور جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا میں زمین میں ایک خلیفہ پیدا کرنے والا ہوں۔‘‘ امام طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ میں زمین میں اپنی جانب سے خلیفہ بنانے والا ہوں جو مخلوق کے درمیان فیصلہ و حکم میں میری خلافت(قائم)کرے گا اور یہ خلیفہ آدم ہو گا، پھر اطاعت الٰہی اور مخلوق میں عدل کے حکم چلانے میں جو آدم کا جانشین ہو گا۔ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بقول قرطبی رحمہ اللہ خلیفہ کا مفہوم علماء نے یہ سمجھا ہے کہ وہ لوگوں کے مابین مظالم کا فیصلہ کرنے والا اور محرمات اور گناہوں سے باز رکھنے والا ہے۔ پھر کہتے ہیں: قرطبی رحمہ اللہ اور دوسرے علماء نے اس آیت سے خلیفہ کے مقرر کرنے کے وجوب پر استدلال کیا ہے تاکہ لوگوں کے اختلافات کے مابین فیصلہ کرے، ان کے جھگڑے چکائے، ظالم سے مظلوم کو حق دلائے، حدود قائم کرے، خواہشات کے ارتکاب سے باز رکھے اور اسی طرح کے دیگر فرائض سر انجام دے جو امام(خلیفہ)کے بغیر ناممکن ہوتے ہیں۔ جبکہ ایسا کام جس کے بغیر ایک فرض کی انجام دہی ناممکن ہو وہ خود بھی فرض ہو جاتا ہے۔ [1] ما لايتم الواجب الا به فهو واجب زمین میں انسان کی خلافت اور اس کی شروط [1] ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس امانت سے مراد اطاعت ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ اس سے ذمہ داری(تکلیف) مراد لیتے ہیں اور اس کی بناء پر امرونہی کی پابندی ہے، چنانچہ حکم بجا لانے پر ثواب ہو گا بصورت دیگر عذاب۔