کتاب: اہل سنت فکر و تحریک - صفحہ 272
اہل بدعت سے رویہ بہرحال مختلف ہوتا ہے اہل سنت و الجماعت اہل قبلہ میں سے ہر بدعت کے حاملین کے درمیان، چاہے ان کی بدعت کیسی ہی کیوں نہ ہو، اور مشرکین و اہل کتاب ایسے شخص کے درمیان جس کا کفر دین اسلام کی رو سے قطعی طور پر ثابت ہو چکا ہو بہرحال فرق روا رکھتے ہیں۔ یہ حکم ظاہری طور پر عام ہے جبکہ یہ معلوم ہے کہ ان لوگوں(اہل بدعت)میں سے بہت سے لوگ باطنی طور پر منافقین اور زندیق ہوتے ہیں۔ ٭ چنانچہ ایسے بعض مسائل میں [1] جو شخص غلطی پر ہوتا ہے، اسے یا تو مشرکین اور اہل کتاب ایسے کفار کے ساتھ ملایا جائے جبکہ عام اصول ایمان میں وہ ان سے قطعی مختلف ہے، اور یا پھر اسے ایجاب و تحریم ایسے مسائل میں غلطی کا ارتکاب کرنے والوں میں شامل کیا جائے جبکہ یہ مسائل بھی اصول ایمان ہی میں سے ہیں کیونکہ فرائض ظاہرہ متواترہ کے وجوب و فرضیت اور محرمات ظاہرہ متواترہ کی تحریم پر ایمان سب سے بڑے اصول ایمان اور قواعد دین میں شامل ہے اور ان کا انکاری بالاتفاق کافر ہے جبکہ ان میں سے بعض مسائل میں اجتہاد کرنے والا، اگرچہ غلطی پر شمار ہو گا مگر بالاتفاق کافر نہیں ہے۔ اب جب اسے مذکورہ ہر دو اصناف میں سے کسی ایک کے ساتھ لازمی طور پر شامل کرنا پڑے گا، تو پھر یہ تو معلوم ہے کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھنے والے مخطئین، مشرکین و اہل کتاب کی بہ نسبت دوسری صنف کے زیادہ قرین مشابہت ہیں۔ اس لئے ایسے شخص کو انہی کے ساتھ ملانا چاہیے۔ اس بناء پر ماضی و حال میں امت کا تعامل اس بات پر رہا ہے کہ [1] مراد ہے عقائد کے مسائل۔ مثلاً صفات، قدر، ایمان اور وعید وغیرہ جن میں قول مخالف کو بدعت شمار کیا جاتا ہے۔