کتاب: اہل سنت فکر و تحریک - صفحہ 226
فصل ہشتم مخالفین اہل سنت کے مہا فرقے(اصول بدعت) اہل سنت و الجماعت دیگر فرقوں پر کبھی کبھی علم اور عدل کے بغیر کوئی حکم نہیں لگاتے، بخلاف اہل تفرقہ و اختلاف کے جو محض ظن اور ہوائے نفس کی بناء پر اپنے مخالفین کو فتووں کا نشانہ بناتے ہیں۔ ٭ جہاں تک ان فرقوں کے تعین کا تعلق ہے تو اس بارے میں لوگوں نے تصنیفات تک تالیف کی ہیں اور مذاہب کی کتب میں ان کا ذکر کیا ہے۔ لیکن دئیے ہوئے فرقوں کے بارے میں پورے یقین اور وثوق سے یہ دعویٰ کرنا کہ یہ ان بہتر فرقوں میں شامل ہیں جن کو وعید آتش سنائی گئی ہے تو اس کے لئے واضح دلیل کی ضرورت ہے، کیونکہ بغیر علم کے کوئی بات کرنا تو اللہ نے ویسے ہی حرام کر رکھا ہے، پھر اپنے بارے میں بغیر علم کے کوئی بات کرنا تو انتہائی بڑا گناہ قرار دیا ہے۔۔ علاوہ ازیں اس بناء پر اپنے ہی گروہ یا اپنے ہی امام یا پیشوا کے متبعین اور صرف اس سے رشتہ و تعلق رکھنے والوں کو ہی اہل سنت و الجماعت سمجھتے ہیں اور ان کے مخالفین کو اہل بدعت [1] جبکہ یہی ضلال مبین ہے۔(ج 3 ص 346) [1] مؤلف نے یہاں پانچ فرقوں کو اصول بدعت کے طور پر ذکر کیا ہے، یہاں دراصل ایسے فرقوں کا فرداً فرداً ذکر مقصود نہیں جو فرقہ ناجیہ سے مفارقت اختیار کر کے ہلاکت میں پڑنے والے ہیں، بلکہ تاریخی طور پر اسلام سے انحراف اور گمراہی کی ان پانچ جڑوں کی نشاندہی مقصود ہے جن سے پھر بےشمار اشجار خبیثہ نے جنم لیا بلکہ ان میں وہ جھاڑ جھنکار بھی ہیں جو اہل سنت کی زمین پر اُگ آتے رہے ہیں اور کوشش کے باوجود انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکا نہ جا سکا۔ اس وضاحت کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ وہ فرقے جن کا نام ان پانچ مہا فرقوں کے نام سے مختلف ہے یا وہ خود کو اہل سنت شمار کرتے ہیں مبادا ان کے بارے میں یہ سمجھ لیا جائے کہ وہ اہل سنت میں واقعی شامل بھی ہوں گے، خاص طور پر برصغیر میں روافض کے علاوہ کسی اور بدعتی فرقے کا نام اگر مشہور نہ ہو سکا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ منکرین حدیث، نیچری، حلولی، مشرکانہ تصوف کے حامل افراد ہلاکت میں نہ پڑیں گے۔ اس فصل کو پڑھنے کے بعد آپ کو اندازہ ہو گا کہ دیگر چھوٹے بڑے گمراہ فرقوں نے زیادہ تر انہی پانچ مہا فرقوں سے ’’استفادہ‘‘ کیا ہے اور انہی سے اینٹیں نکال نکال کر اپنی عمارت بنائی ہے، چنانچہ انکار حدیث خوارج اور پھر معتزلہ کی پیداوار ہے، نیچری بھی معتزلہ ہی کا دوسرا نام ہے اور تصوف کی شرکیہ منازل کو سر کرنے والے عمداً یا غیر عمداً ایک طرف اگر جہمیہ و جبریہ سے اپنا رشتہ جوڑتے ہیں تو دوسری طرف مرجیہ سے اور تیسری طرف روافض سے۔ مزید ملاحظہ ہو پچھلی فصل کی آخری صنف ’’گمراہ مشرکین‘‘ مترجم۔