کتاب: اہل سنت فکر و تحریک - صفحہ 179
اجماع ہے کہ ان سے قتال کرنا چاہیے چاہے وہ کلمہ گو کیوں نہ ہوں۔ ٭ کتاب و سنت اور اجماع امت سے ثابت ہے کہ جو لوگ شریعت اسلامیہ سے خروج کرتے ہیں ان سے قتال کرنا چاہیے، بےشک وہ کلمہ گو ہی کیوں نہ ہوں۔۔ ایسے لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچ چکنے کے بعد، کہ جس کی بناء پر ان سے قتال کیا جاتا ہے، ایسے لوگوں سے خود قتال اور جنگ میں پہل کرنا فرض ہے، اور اگر وہ خود مسلمانوں سے قتال میں پہل کریں تو پھر قتال کی فرضیت مزید پختہ اور لازم ہو جاتی ہے۔۔ جب یہ [1] دشمن مسلمانوں پر حملہ کرنا چاہیں تو ان کو پسپا کرنا ان مسلمانوں پر بھی واجب ہے جن کو ہدف بنایا گیا ہے اور ان پر بھی واجب ہو جاتا ہے جن کو نشانہ نہیں بنایا گیا، تاکہ وہ ان کا ساتھ دیں۔ اور اس فرضیت کا اطلاق ہر شخص پر اس کے جان و مال کے ساتھ اس کی استطاعت و قدرت کے مطابق ہوتا ہے، تعداد میں قلت ہو کثرت ہو، پیدل چلتا ہو یا سواری میسر ہو، بالکل ایسے جیسے جنگ خندق میں مسلمانوں کے ساتھ صورت پیش آئی اس میں اللہ تعالیٰ نے کسی کو جہاد سے پیچھے رہنے کی اجازت نہ دی۔۔ چنانچہ اس جہاد کی نوعیت یہ ہے کہ یہ مسلمان کے دین حرمت اور ان کی جانوں کے دفاع کی خاطر ضروری ہے اور یہی قتال اضطرار ہے۔ [2] [1] امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے تاتاریوں کی بابت دریافت کیا گیا جو کہ 699ھ میں شام پر حملہ آور ہوئے، یہ لوگ اس وقت تک اسلام سے نسبت کر چکے تھے اور شہادتین ادا کرنے کے بعد کلمہ گو ہو چکے تھے مگر اس کے باوجود اپنے درمیان ’’یاسق‘‘ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرتے تھے۔ یاسق ان کے قانون کی کتاب تھی جس میں بعض آسمانی احکامات بھی تھے اور بعض چنگیز خان کی اپنی رائے، اور ہوائے نفس سے بنے ہوئے احکامات تھے، چنانچہ وہ کتاب اس کے بیٹوں میں شرع و قانون کی حیثیت کی حامل تھی جس کے مطابق وہ اعراض و دماء ایسے معاملوں میں فیصلے کیا کرتے تھے(ملاحظہ ہو مجموع فتاویٰ ابن تیمیہ: 28/501)۔ [2] اس سلسلے میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بہت طویل و عریض بحث کی ہے، مسئلہ کی قدرے وضاحت کے لئے ایک اور پیرا بھی ملاحظہ ہو۔ مترجم۔ ’’ہر وہ گروہ جو اسلام کے ظاہر و متواتر احکام و شرائع میں سے کسی بھی حکم کو قائم کرنے سے اجتناب برتے، چاہے یہ تاتاری ہوں یا غیر تاتاری، ان سے قتال فرض ہے تاآنکہ اسلام کے قوانین و شرائع کی پابندی نہ کرنے لگیں، اگرچہ وہ اس کے ساتھ ساتھ شہادتین کے اقراری(کلمہ گو) ہی کیوں نہ ہوں، یا حتیٰ کہ بعض دیگر احکامات کے پابند بھی کیوں نہ ہوں۔۔ تو معلوم ہوا کہ جب تک اسلام کے احکامات کی عملاً پابندی نہ ہو جائے، اس وقت تک اسلام کو خالی اپنا لینے سے قتال ساقط نہیں ہو جاتا، اس لئے جب تک دین سارے کا سارا ایک اللہ وحدہ لا شریک کے لئے نہ ہو جائے اور جب تک فتنہ ختم نہ ہو جائے قتال واجب ہے۔ چنانچہ جب دین(اطاعت و پابندی حک و قانون) غیر اللہ کے لیے ہو جائے تو قتال واجب ہو جاتا ہے۔۔ چنانچہ وہ لوگ جو اسلام کے ظاہر ومتواتر احکامات و قوانین کی پابندی نہیں کرتے، ان سے قتال کے واجب ہونے پر میں علماء اسلام میں کوئی بھی اختلاف نہیں جانتا، اللہ تعالیٰ کا حکم ہے: ﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلّٰهِ ۚ﴾ اس لئے اگر دین کچھ تو اللہ کے لئے اور کچھ غیراللہ کے لئے ہو تو قتال واجب ہو گا جب تک دین سارے کا سارا اللہ کے لئے نہ ہو جائے۔(فتاویٰ ابن تیمیہ: 28/502-511)