کتاب: اہل سنت فکر و تحریک - صفحہ 178
درست اجتہاد کرنے والے تھے، یا پھر اجتہاد میں غلطی ہوئی تھی۔۔ ان سب باتوں کے باوجود اہل سنت یہ اعتقاد نہیں رکھتے کہ ہر صحابی کبیرہ و صغیرہ گناہوں سے معصوم تھا بلکہ مجملاً ان سے گناہ ہو سکتے ہیں، ان سے اگر کچھ سرزد ہوا ہے تو ان کے بارے میں ایسی خوشخبریاں اور فضائل بھی ہیں جس سے ان کی مغفرت لازم ہوتی ہے۔۔ جبکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان(انهم خير القرون)کہ ’’وہ خیر القرون ہیں‘‘ سے یہ بھی ثابت ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے بعد وہ افضل ترین مخلوق ہیں نہ ان جیسا کوئی ہوا ہے اور نہ ہو گا اور یہ کہ اس امت میں سے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے افضل اور سب سے باعزت امت ہے۔(ج 3 ص 152-156) (11) اہل سنت اولیاء کی کرامات اور ان کے ہاتھ پر رونما ہونے والے خرق عادت واقعات کو مانتے ہیں۔ ٭ اہل سنت و الجماعت کے اصول میں یہ بھی ہے کہ وہ اللہ کے اولیاء [1] کی کرامات اور ان کے ہاتھ پر جو خرق عادت واقعات رونما ہو جاتے ہیں ان کو مانتے ہیں ان واقعات میں علوم و مکاشفات بھی شامل ہیں اور انواع قدرت و تاثیرات بھی، جیسا کہ پہلی امتوں میں سے سورہ کہف میں واقعہ ماثور ہے اسی طرح امت کے سلف صحابہ رضی اللہ عنہم، تابعین رحمہم اللہ اور تمام زمانوں کے(نیک لوگوں)کے بارے میں روایات ہیں یہ امور اس امت میں تاقیامت باقی ہیں۔(ج 3 ص 156) (12) ایسے لوگوں کے بارے میں جو شریعت سے خروج کرتے ہیں اہل سنت کا [1] خیال رہے کہ بات صرف اولیاء اللہ کے بارے میں ہے۔ ہمارے ملک میں اولیاء کا تصور دوسرا رنگ لیے ہوئے ہے جو حقیقت میں اولیاء الشیطان ہیں۔ ملاحظہ ہو امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الفرقان بین اولیاء الرحمٰن واولیاء الشیطان۔ مترجم