کتاب: اہل سنت فکر و تحریک - صفحہ 163
فصل چہارم اہل سنت کے متفقہ اصول اہل سنت و الجماعت کے بیشتر اہم ’’اصول‘‘ پر متفق ہیں جو کہ ان کی پہچان بن چکے ہیں اور ان کے عقائد کی ترجمانی کرتے ہیں، مزید یہ کہ وہ ’’اصول‘‘ ہیں جن میں سے آئندہ صفحات میں ہم ان متفق علیہ ’’اصول‘‘ کا اجمالی ذکر کریں گے۔ [1] ٭ امابعد:۔۔ فرقہ ناجیہ جو تاقیامت فتح مند رہے گا اور وہ اہل سنت و الجماعت ہیں۔۔ کا عقیدہ یہ ہے: اللہ کے ساتھ ایمان، اس کے فرشتوں، کتابوں، رسولوں اور بعث بعد از موت(دوبارہ زندگی)پر ایمان اور اللہ کی تقدیر پر ایمان اچھی ہو یا بری۔(ج 3 ص 129) (1) اہل سنت کا عقیدہ بابت صفات الٰہی: اثبات بلا تکییف اور تنزیہ بلا تعطیل ٭ اللہ عزوجل کے ساتھ ایمان لانے میں یہ بھی شامل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اپنا جو کوئی وصف بیان کیا ہے یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جو وصف بیان کیا ہے ان اوصاف و صفات کے ساتھ اسی طرح ایمان رکھا جائے، تحریف کی جائے نہ تعطیل، تکییف کی جائے نہ تمثیل، اس کی بجائے اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے:﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾کہ ’’اس کی مثل کوئی نہیں ہے اور وہ سننے دیکھنے والا [1] یہاں ہم ان تمام اصولوں سے تعرض نہیں کریں گے۔ جن پر سب کے سب اہل ملت اسلامیہ نے اتفاق کیا ہے یا جو اصول ان مذکورہ اصول سے متفرع ہوتے ہیں اور ان کا دین میں سے ہونا ہرکس و ناکس کے علم میں ہے۔ اسی طرح ہم ایجاب و تحریم کے متفق علیہ مسائل بھی تعرض نہیں کریں گے اور نہ ہی ان متفقہ مسائل سے جن کی تفصیل احکام کی کتابوں میں اجماع، قواعد فقیہ اور فروع فقیہ ایسے مباحث میں مل سکتی ہے۔ مثال کے طور پر متعہ حرام ہے یا مثلاً موزوں پر مسح جائز ہے یا اس قسم کے دیگر مسائل جن پر اہل سنت کے اجماع کی وجہ سے اہل سنت کی پہچان یا شعار کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔