کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 97
یہ اللہ تعالیٰ کے سنانے سے ہی سنا اور قرآنِ مجید میں ہے: ﴿ إِنَّ ا للّٰه یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآئُ ﴾[فاطر:۳۵؍۲۲] [ ’’ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے سنادیتا ہے۔‘‘ ]اللہ جن کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے تو قلیب بدر والوں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو سن لینا۔ آیت: ﴿اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی…الخ﴾کے منافی نہیں ، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سنانے سے تھا۔ پھر ام المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بھی مسند امام احمد وغیرہ کی روایت کے مطابق قلیب بدر والوں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو سننے کو تسلیم فرمارہی ہیں اور صحیح بخاری کی روایت کے مطابق ان کے علم اور جاننے کو تسلیم فرمارہی ہیں اور معلوم ہے کہ علم و جاننا بھی حیا ت و زندگی کے بغیر تو نہیں ہوسکتا۔ آپ لکھتے ہیں : ’’ آپؐ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔‘‘ (النحل:۸۰)پوری آیت اس طرح ﴿ إِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآئَ إِذَا وَلَّوا مُدْبِرِیْنَ﴾[’’ بے شک آپ نہ مردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ بہروں کو پکار سنا سکتے ہیں ، جبکہ وہ پیٹھ پھیرے جارہے ہوں ۔ ‘‘ ]آیت کریمہ کے آخری لفظ دلالت کر رہے ہیں کہ موتی سے جو مردے آپ سمجھ رہے ہیں ، اس مقام پر وہ مردے مراد نہیں ، کیونکہ ان میں تو ’’إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ‘‘والا وصف موجود ہی نہیں ہوتا۔ پھر دوسری آیت کریمہ میں وضاحت موجود ہے۔﴿إِنَّ ا للّٰه یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآئُ﴾ تو سورۂ نمل اور سورۂ فاطر والی آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماع کی نفی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسماع کی نفی نہیں ۔ جبکہ سورۂ فاطر والی آیت میں اللہ تعالیٰ کے اسماع کا اثبات بھی موجود ہے۔ رہی سورۂ احقاف والی آیت تو اس میں موتی یا میت یا ان کے ہم معنی کوئی لفظ صرف یہ آیا ہے: ﴿ مَنْ لاَّ یَسْتَجِیْبُ لَہٗٓ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَھُمْ عَنْ دُعَآئِھِمْ غَافِلُوْنَ ﴾[’’ جو قیامت تک اس کی دعا قبول نہ کرسکیں ، بلکہ ان کے پکارنے سے بے خبر ہوں ۔‘‘ ]اور یہ لفظ زندہ اور مردہ دونوں کو شامل ہیں ، اگر اس سے عدم سماع موتی اخذ کیا جائے تو اس سے عدم سماع احیاء بھی اخذ ہوگا۔ کیونکہ’’ مَنْ لاَّ یَسْتَجِیْبُ ‘‘الخ ۔دونوں کو متناول ہے۔ پھر آپ نے ترجمہ میں لکھا ہے: ’’ اس کی پکار کا جواب نہیں دے سکتے۔‘‘ حالانکہ استجاب یستجیب قبول کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ أَسْتَجِبْ لَکُمْ ﴾[المؤمن:۶۰][ ’’ اور تمہارے رب کافرمان ہے کہ مجھ سے دعا کرو، میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا۔‘‘ ]نیز فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے: ((یُسْتَجَابُ لِأَحَدِکُمْ مَا لَمْ یَعْجَلْ)) [1] [ ’’ تمہارے ایک کی دعا قبو ل ہوتی ہے ، جب تک وہ جلدی نہ کرے۔‘‘] پھر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّکُمْ مِّنْ قَبْلِ أَنْ یَّأَتِیَ یَوْمٌ لاَّ مَرَدَّ لَہٗ مِنَ ا للّٰه ﴾[الشوریٰ: ۴۷][’’ اپنے [1] صحیح ابو داؤد : ۲۳۳۴ ، ترمذی ؍ الدعوات ؍ باب ماجاء فیمن یستعجل فی دعائہ